ممبئی: نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری اور کینیڈا اور میکسیکو کیلئے تجارتی ڈیوٹی 25 فیصد بڑھانے کے اعلان سے مقامی سطح پر زومیٹو، این ٹی پی سی، اڈانی پورٹ ، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایس بی آئی اور ریلائنس سمیت 27 بڑی کمپنیوں میں تقریباً 11 فیصد کی گراوٹ کی وجہ سے آج اسٹاک مارکیٹ میں بھونچال آگیا۔ بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 1235.08 پوائنٹس یا 1.60 فیصد گر کر 75,838.36 پوائنٹس پر آگیا، جو 76 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے ، جو ساڑھے سات ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
اس سے پہلے 06 جون کو یہ 75,074.51 پوائنٹس پر تھا۔ اس کے علاوہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 320.10 پوائنٹس یا 1.37 فیصد گر کر 23,024.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔بی ایس ای کی بڑی کمپنیوں کی طرح درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں بھی زبردست فروخت ہوئی جس کی وجہ سے مڈ کیپ 2.00 فیصد گر کر 43,167.39 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.94 فیصد گر کر 51,714.62 پوائنٹس پر آگیا۔ اس عرصے کے دوران بی ایس ای میں مجموعی طور پر 4088 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2788 میں کمی، 1187 میں اضافہ جبکہ 113 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای کی 2095 کمپنیوں میں فروخت ہوئی جبکہ 715 میں خرید و فروخت ہوئی جبکہ 77 میں استحکام رہا۔بی ایس ای کے تمام 21 گروپوں کا رجحان منفی تھا۔ اس کے نتیجے میں ریئلٹی 4.22 ، اجناس 0.82 ، سی ڈی 0.82 ، انرجی 1.25 ، ایف ایم سی جی 0.32 ، مالیاتی خدمات 1.79 ، ہیلتھ کیئر 0.96 ، انڈسٹریلز 2.11 ، آئی ٹی 1.16 ، ٹیلی کام 2.52 ، افادیت 2.35 ، آٹو 1.68 ، بینکنگ 1.81 ، کیپٹل گڈز 2.16، کنزیومر ڈیوریبلز 3.99، میٹل 0.82، آئل اینڈ گیس 0.69، پاور 2.63، ٹیک 1.21، سروسز 2.86 اور فوکسڈ آئی ٹی گروپ کے حصص میں 1.17 فیصد کمی ہوئی۔غیر ملکی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.15 فیصد، جاپان کے نکیئی میں 0.32 فیصد اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 0.91 فیصد جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.15 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.05 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی