واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے معمول کی پریس بریفنگ میں پاکستان کی سیاسی صورت حال بالخصوص تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی سے متعلق صحافیوں کے سوالات پر پالیسی بیان دیدیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک صحافی نے سوال کیا کہ امریکہ کے 60 ارکان پارلیمنٹ کے صدر جوبائیڈن کو عمران خان کی رہائی کیلئے لکھے گئے خط کو “یہودی لابی” کے زیر اثر کہا جا رہا ہے۔جس پر میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ میں نے ایسی باتیں کچھ سوشل میڈیا پوسٹوں میں دیکھیں اور کچھ کہانیاں جن کا آپ حوالہ دے رہے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس معلومات کو گردش کرنے کے پیچھے کون ہے۔میتھیو ملر نے کہا کہ اگر لوگ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں یا ارکانِ کانگریس پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ان سے جڑے مسائل پر ضرور بات کی جائے لیکن ان کے مذہب یا جنسی رجحان کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ایک اور صحافی نے پوچھا کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے تو پاکستان میں سیاسی منظرنامہ عمران خان کے حق میں تبدیل ہوسکتا ہے اور ان کی رہائی بھی ممکن ہے۔