امریکہ میں مقیم ہندوستانی فکرمند، دیگر کمپنیوں میں بھی ملازمین کی تخفیف کا خدشہ
حیدرآباد۔6۔نومبر۔(سیاست نیوز) ٹوئیٹر کے ہندستانی ملازمین کو کمپنی سے نکالے جانے کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے امریکہ میں رہنے والے ہندستانی نوجوان اپنے مستقبل کے متعلق فکرمند ہونے لگے ہیں اور جو ہندستانی نوجوان H1Bویزاکے حامل ہیں ان کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہاہے کیونکہ ٹوئیٹر کی جانب سے ہندستانی ملازمین کو نوکریوں سے ہٹائے جانے کے بعد کنٹراکٹ کے اساس پر جن کمپنیوں سے کام لیا جاتا تھا اس میں بھی تخفیف کے اندیشہ ظاہر کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ٹوئیٹر نے ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا جو پیمانہ مقرر کیا ہے اسی کے مطابق دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔امریکی کمپنی کی جانب سے کی جانے والی ان کاروائیوں کے دوران گذشتہ دنوں ہندستان میں ٹوئیٹر نے اپنی کمپنی میں خدمات انجام دینے والے 230 ملازمین میں سے 180ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کے اقدامات کئے ۔ ذرائع کے مطابق ٹوئیٹر کو ایلان مسک کی جانب سے حاصل کرلئے جانے کے بعد کمپنی کے اخراجات میں کمی کے اقدامات کے لئے جو کاروائیاں کی جارہی تھیں ان میں کی جانے والی پیشرفت اور امریکہ میں اہم عہدوں پر فائز افراد کو ہٹائے جانے کے دوران کئی خدشات پیدا ہونے لگے تھے لیکن اب جو ہندستان میں 230 میں سے 180 ملازمین کو ہٹائے جانے کے سلسلہ میں ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس رفتار کے ساتھ کاروائی کی جائے گی ۔بتایاجاتا ہے کہ بعض ملازمین کو بذریعہ ای۔میل مطلع کیا گیا ہے کہ انہیں ملازمت سے برطرف کیا جاچکا ہے لیکن بیشتر ملازمین کے لاگ ان اکاؤنٹ کو بند کردیا گیا اور دریافت کرنے پر انہیں اس بات سے واقف کروایا گیا کہ وہ ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ملازمت سے محروم ہونے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ انہیں یقین تھا کہ نئے انتظامیہ کی جانب سے انہیں اگر نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں نوٹس دیا جائے اور کہا جائے گا کہ وہ اپنی دوسری ملازمت کا نوٹس کی مدت کے دوران انتظام کرلیں لیکن ایسا نہ کرنے سے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ایلان مسک کے ٹوئیٹر حاصل کئے جانے کے بعد کئے جانے والے اقدامات کے تعلق سے انفارمیشن ٹکنالوجی کی دنیا میں ہلچل پائی جارہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر ٹوئیٹر جیسی سرکردہ کمپنی کی جانب سے اس طرح کی کاروائیاں کی جاتی ہیں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہونے کی توقع کم ہے۔م