ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت، آر سی کنتیا کا الزام

   

Ferty9 Clinic

امیت شاہ کے ٹیلی فون کے بعد آر ٹی آئی بل کی تائید، بلدی انتخابات میں کانگریس بہتر مظاہرہ کرے گی

حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا نے ٹی آر ایس سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں آر ٹی آئی بل کی تائید کی وجوہات سے عوام کو واقف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس تلنگانہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور دونوں پارٹیوں کے درمیان خفیہ سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالفت کا ڈرامہ کررہی ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی ہے لیکن پارلیمنٹ میں یہ دونوں ایک ہیں۔ آر ٹی آئی بل کی راجیہ سبھا میں تائید کیلئے ٹی آر ایس ارکان کو خصوصی طیارہ سے نئی دہلی روانہ کیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارلیمنٹ میں دونوں ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے راجیہ سبھا میں آر ٹی آئی بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے دستخط کئے تھے لیکن امیت شاہ نے کے سی آر کو فون کرتے ہوئے بل کی تائید کیلئے راضی کرلیا۔ آر سی کنتیا نے بل کی تائید کے پس پردہ سیاسی مقصد براری سے عوام کو واقف کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان خفیہ معاہدہ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام کو چاہیئے کہ وہ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ان پارٹیوں سے چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ٹی آر ایس نے ہر مسئلہ پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کی تائید کی تھی۔ صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخاب کے علاوہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور دیگر مسائل پر بی جے پی کی تائید کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے سی آر کے خلاف موجود سی بی آئی مقدمات کو آگے بڑھانے سے گریز کررہی ہے۔ عوام کے سی آر کے مقدمات کی تحقیقاتی پیش رفت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کی ڈرامہ بازی کے خلاف اپنی ناراضگی کے اظہار کے طور پر میونسپل انتخابات میں کانگریس پارٹی کی تائید کریں۔ انہوں نے کہا کہ 30جولائی تک گھر گھر کانگریس، گاؤں گاؤں کانگریس مہم کے تحت پرچم کشائی اور پارٹی کارکنوں کے اجلاس کی مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے ان پروگراموں میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ آر سی کنتیا نے کہا کہ ہر کارکن کو اپنی قیامگاہ پر پارٹی پرچم لہرانا چاہیئے۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی کا بہتر مظاہرہ رہے گا۔ کانگریس قائدین اور کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابھی سے متحدہ طور پر مقابلہ کی تیاری کریں۔ حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے درمیان اُجاگر کیا جائے۔ بلدی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں ضلع واری سطح پر پارٹی قائدین کے اجلاسوں کا آج سے آغاز ہوا اور امیدواروں کے انتخاب کی ذمہ داری مقامی قائدین کو دی جارہی ہے۔