ٹی آر ایس کا انتخابی منشور سرقہ کرنے کا بی جے پی پر الزام

   

ایک پاگل سرجیکل اسٹرائیک کرنے ، دوسرا پاگل سمادھی کو
منہدم کرنے کی اشتعال انگیزی کررہا ہے : کے ٹی آر

حیدرآباد :۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کا سرقہ کرلینے کا بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کے ترقیاتی اقدامات اور تصاویر چوری کر کے بی جے پی کے منشور میں شامل کرنے کا الزام عائد کیا ۔ بالخصوص شی ٹائیلٹس ، ڈمپنگ یارڈس اور ویمن پولیس اسٹیشن کے تصاویر کے ساتھ بی جے پی کا منشور جاری کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ٹی آر ایس اس کو اعزاز کے طور پر قبول کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ نقل مارننے کے لیے بھی عقل ہونے کا ریمارکس کیا ۔ ماضی میں کہا گیا مستقبل میں کیا جائے گا ۔ ہم عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں اور اس پر غور کرنا عوام کی ذمہ داری ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شہر حیدرآباد کی 400 سالہ تاریخ ہے ۔ اس کی اپنی پہچان ، شناخت و ثقافت ہے ۔ لیکن فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے حیدرآباد کی تہذیب ثقافت و تمدن کو سیاسی فائدے کے لیے نقصان پہونچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کسی طرح کی اشتعال انگیزی کرلیں ٹی آر ایس جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ کے ٹی آر نے 28 نومبر کو ایل بی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے چیف منسٹر کے سی آر کے جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ حیدرآباد کے لا اینڈ آرڈر کو نقصان پہونچانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے انتخابات آئیں گے اور جائیں گے مگر سیاسی فائدے کے لیے حالت بگاڑنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایک پاگل قائد سمادھیوں کو منہدم کرنے کی بات کررہا ہے ۔ دوسرا پاگل سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے امن و امان کو نقصان پہونچانے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 6 سال سے لا اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں ہے ، آگے بھی رہے گا ، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ حیدرآباد میں مذہب ، ذات پات پر جھگڑا کرانے والوں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔