خود پارٹی قائدین کو صبر آزما جدو جہد کے اندیشے ۔ کامیابی کے تعلق سے بھی پیش قیاسی مشکل
حیدرآباد7اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ کیلئے بھارت راشٹرسمیتی کا اعلان آسان رہا لیکن اب ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کے بعد کی جدوجہد بڑا چیالنج ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ٹی آرایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ تو کرچکے ہیں لیکن اس کے نتائج کے متعلق خود پارٹی قائدین مطمئن نہیں ہیں اور ان کا کہناہے کہ ٹی آر ایس کی طویل جدوجہد کے بعد اب بی آر ایس کیلئے جدوجہدصبر آزما مرحلہ ثابت ہوگی۔ چندر شیکھر راؤ نے واحد نکاتی ایجنڈہ تشکیل تلنگانہ کے نام پر ٹی آر ایسکا قیام عمل میں لایا تھا اور طویل جدوجہد کے دوران نشانہ کی تکمیل کے بعد علحدہ تلنگانہ میں دو مرتبہ اقتدار حاصل کیا لیکن اب وہ بی آر ایس کے ساتھ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی بات کر رہے ہیں تو ماہرین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی کو عوام میں مقبولیت حاصل ہوگی لیکن ملک کی دوسری ریاستوں کے عوام بی آر ایس کو کس طرح سے قبول کرتے ہیں یہ کہناہے قبل از وقت ہوگا کیونکہ بی آر ایس کی پالیسی اور منصوبوں کے سلسلہ میں اب تک کوئی بات واضح نہیں ہے لیکن سیاسی حلقوں میں چندر شیکھر راؤ کی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے متعلق قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا اور اب کے سی آر نے نئی جماعت کا اعلان کردیا ہے اور یہ کوشش کی جارہی ہے کہ ملک کی ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کو ساتھ لے کر ان کا وفاق بی آر ایس کی قیادت میں تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کیلئے بی آر ایس کے اعلان کے بعد جو آزمائش کا دور شروع ہونے جار ہاہے اس میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے یہ کہنامشکل ہے کیونکہ بی آر ایس کے ایجنڈہ کے اعلان یا تشہیر کے بعد ہی یہ کہاجاسکتا ہے کہ بی آر ایس کس حد تک کامیاب ہوگی ۔ابتدائی مرحلہ میں الیکشن کمیشن سے ٹی آر ایس کے نام کی تبدیلی کیلئے راہ ہموار کئے جانے کے بعد بی آر ایس قائدین اپنے جھنڈا اور ایجنڈہ کو منظرعام پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن سے پارٹی کے نام کی تبدیلی کو منظوری کے بعد بی آر ایس کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا اور پارٹی کے نام کی تبدیلی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے تو چندر شیکھر راؤ دیگر ریاستوں کا دورہ کرکے دیگر قائدین اورتنظیموں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ذرائع کے مطابق بی آر ایس کے نام کو الیکشن کمیشن سے منظوری کے بعد کے چندر شیکھر راؤ آندھرا پردیش اور کرناٹک کے علاوہ مہاراشٹرا میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن آندھراپردیش میں بی آر ایس کی سرگرمیوں کے آغاز کیلئے انہیں کئی چیالنجس کا سامنا کرنا پڑے گا۔