حکومت کے اقدامات مسلمانوں کو حقوق سے محروم کرنے کے مترادف
حیدرآباد۔8۔جنوری(سیاست نیوز) ملت اسلامیہ بالخصوص ان سیاسی ‘ مذہبی‘ سماجی اور بااثر طبقہ کے لئے امتحان کی گھڑی اور لمحۂ فکر ہے جنہوں نے تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راؤ کی حمایت کرکے ان کے حق میں مسلمانو ںکو ووٹ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کا ہمدرد اور سیکولر قائد قرار دیا تھا ۔جن تنظیموں ‘ جماعتوں اور قائدین کی جانب سے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کی گئی تھی اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت سے سوال کریں کہ وہ کس طرح مسلمانوں کے تحفظات میں کمی کے ذریعہ انہیں ملازمتوں سے محروم کیا جا رہا ہے !ریاست میں مسلم تحفظات میں اضافہ کا اعلان کرنے والی حکومت اور اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد بھی آرڈیننس کی اجرائی کے بجائے گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے والوں سے اگر اب بھی سوال نہیں کیاجاتا ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ریاست میں برسراقتدار جماعت کی حامیوں کی جانب سے مسلمانوں کو کی ترقی کو نظرانداز کرنے کی مجرمانہ سازش کا وہ خود بھی حصہ بن رہے ہیں کیونکہ ب واضح ثبوت اور حکومت کے عمل سے یہ بات ثابت ہونے لگی ہے تو خاموشی اختیار کرنا مسلمانوں سے دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔