’’ڈی آر ایس ریویو کا فیصلہ مخالفت میں آنے پر ہندوستان کی مایوسی نے جنوبی افریقہ کو موقع فراہم کیا‘‘
کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ کے کپتان ڈین ایلگر کا خیال ہے کہ ڈی آر ایس سسٹم سے ہندوستان کی ناراضگی جنوبی افریقہ کے کام آئی۔ تیسرے دن کے اختتام پر روی چندرن اشوین کی گیند پر مرائس ایراسمس نے ایلگر کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا تھا۔ وہ گیند راؤنڈ دی وکٹ سے اندر آئی اور مڈل اسٹمپ کے سامنے گھٹنے کے نیچے جالگی۔ ایلگر نے ’ریویو‘ کی مدد لی اور بال ٹریکنگ سے معلوم ہوا کہ گیند وکٹوں کے اوپر سے نکلی۔ٹیم انڈیا کے کھلاڑی اس فیصلے سے ناخوش تھے اور میدان میں اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ نو اوورز کے بعد بالآخر انہوں نے ایلگر کو پویلین کا راستہ دکھایا۔ تاہم، اس وقت تک وہ ریسی وان ڈیر ڈوسین کے ساتھ 4.5کے رن ریٹ سے 41رن جوڑ چکے تھے اور ہدف صرف 111 رن دور تھا۔ ہندوستانیوں کے تبصروں کے بارے میں پوچھنے پر ایلگر نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کیونکہ اس سے میزبان ٹیم کو فائدہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ شاید ان کی ٹیم دباؤ میں تھی اور گزشتہ چند میچوں کی طرح حالات ان کے حق میں نہیں جارہے۔ ٹسٹ میچ کرکٹ کے دباؤ نے ہمیں آزادی سے کھیلنے اور ہدف کے قریب جانے کا موقع فراہم کیا۔ کچھ وقت کیلئے ہندوستان کے کھلاڑی کھیل کو فراموش کرکے جذبات میں بہہ گئے ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ہمارے ہاتھوں میں کھیل دے گئے اور مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا۔دوسرے ٹسٹ کے بعدانہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے کیگیسو رباڈا کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی تھی ۔ ایلگر نے کہا کہ آپ کو ہر کھلاڑی کے ساتھ باہمی احترام سے پیش آنا ہوگا۔ کھلاڑیوں کو سمجھنا ہوگا کہ میں ان کا برا نہیں چاہتا ہوں۔ میں بس انہیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو بہترین بننا ہے تو آپ کو اسی طرح کھیلنا ہوگا جیسا ہم گزشتہ کچھ ہفتوں سے کھیل رہے ہیں۔ ساتھ ہی آپ کو تسلسل کی ضرورت ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ ڈین (ایلگر) صحیح وجوہات سے ایسا کررہے ہیں۔ میں جو زبان استعمال کرتا ہوں یا جو الفاظ بولتا ہوں اس سے میں کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ میرا کام اپنی ٹیم کو تحریک دینا ہوتا ہے۔