ٹیکسٹائیلس و ہینڈلومس پر ٹیکس لگانے والے مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم

   


بافندوں کی فلاح و بہبود کے تمام ادارے بند کردئے گئے۔ حلقہ منوگوڑ کے بافندوں سے کے ٹی آر کی ٹیلی کانفرنس
حیدرآباد 18 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت کی جانب سے ہینڈلومس و ٹیکسٹائیلس پر جی ایس ٹی عائد کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ٹی آر ایس ( بی آر ایس ) کے ورکنگ صدر و وزیر ٹیکسٹائیلس کے ٹی راما راؤ نے منوگوڑ کے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ بافندوں سے انتہا درجہ کی ناانصافی کرنے پر بی جے پی کو سبق سکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آزاد ہندوستان کی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے ٹیکسٹائیلس اور ہینڈلومس پر ٹیکس عائد کیا ہے ۔ منوگوڑ اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بافندوں سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کے ٹی آر نے نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائیلس صنعت کو بحران کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حالانکہ سودیشی اشیا کو فروغ دینے کے وعدہ کے ساتھ اقتدار پر آئی ہے لیکن بافندوں کو مسائل کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ زرعی شعبہ کے بعد ٹیکسٹائیلس شعبہ دوسرا بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ تھا ۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ یہ اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ انتخابات کے فوری بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت جی ایس ٹی کی شرح کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردے ۔ انہوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں سے ہینڈلوم صنعت پوری طرح تباہ ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہینڈلوم شعبہ ملک کا تاریخی ورثہ بھی ہے لیکن اس کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے آل انڈیا ہینڈ لومس بورڈ ‘ آل انڈیا ہینڈی کرافٹس بورڈ کو تحلیل کردیا ہے اور بافندوں کیلئے بچت اور انشورنس اسکیمات کو ختم کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اون پر بافندوں کو دی جانے والی سبسڈی کو بھی 40 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کردیا گیا ہے جس سے ہینڈ لوم پیداوار بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے بافندوں کیلئے فلاحی اسکیمات نافذ کرنے کیلئے مرکز سے امداد کی اپیل کی ہے تاہم مرکز نے ابھی تک کوئی امداد نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نیشنل ٹیکسٹائیل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ‘ ہینڈ لوم ایکسپورٹس پروموشن کونسل ‘ انسٹی ٹیوٹ آف ہینڈلوم ٹکنالوجی اور بلاک سطح کے ہینڈلوم کلسٹرس قائم کرنے کیلئے بھی کوئی مدد نہیں کی ہے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے بافندوں کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے شروع کئے گئے مختلف اقدامات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ بافندوں اور ٹیکسٹائیل صنعت کی ہرممکن مدد کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہینڈلوم شعبہ کی بہتری کیلئے سالانہ 1200 کروڑ روپئے کا بجٹ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ضروری اشیا کی خریدی پر سبسڈی دی جا رہی ہے اور ہینڈ لوم اور پاور لوم ورکرس کو پانچ لاکھ روپئے تک کا انشورنس فراہم کیا جا رہا ہے ۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بافندوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرض معاف کردئے گئے ہیں جن سے 10,500 بافندوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جو کمپنیاں عالمی سطح پر بائیوفارما شعبہ میں اختراعی طریقہ کار اختیار کرنا چاہتی ہیں ان کیلئے بھی یہ بی ہب انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا اور اس کے ذریعہ انہیں اپنے کام کاج کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بی ہب کے ذریعہ فارما کمنیوں کو اپنی اشیا مارکٹ میں لانے کیلئے بھی زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا اور وہ جلد یہ کام کرپائیں گی ۔