پارلیمنٹ اجلاس میں 4بلز کی مخالفت کرنے کانگریس کا فیصلہ

   

زراعت سے متعلق بلوں میں کسانوںکے حقوق سلب کرنے کا الزام : جئے رام رمیش

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے کل سے شروع ہورہے مانسون اجلاس میں حکومت کا 11 آرڈینینس لانے کا منصوبہ ہے لیکن پارٹی زراعت اور بینکنگ ایکٹ میں تبدیلی سے متعلق بلوں پر سخت مخالفت کر کے معیشت، کورونا اور سرحد پر چینی دراندازی کے مسئلے کو زور شور سے اٹھائے گی۔کانگریس ترجمان جے رام رمیش نے اتوار کو یہاں کہا کہ زراعت سے متعلق بلوں میں کسان کو منڈی اور کم از کم حمایت قیمت دینے جیسی سہولت دینے کا انتظام ختم کرنے کا التزام ہے ۔اسی طرح سے بینکنگ بل میں تبدیلی کرکے کسانوں کے قرض میں راحت سے متعلق حقوق کو ختم کرکے عام لوگوں کے حقوق کو نقصان پہنچانے والا التزام ہے اس لئے کانگریس زراعت سے متعلق تینوں بلوں کے ساتھ ہی بینکنگ کے شعبہ میں تبدیلی لانے والے آرڈینینس کی سخت مخالفت کرے گی۔ترجمان نے کہاکہ پارلیمنٹ میں ان بلوں کے خلاف اپوزیشن کو متحد کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں حکومت اکثریت میں نہیں ہے اس لئے ان بلوں کو پاس نہ ہونے دینے کے لئے پارٹی اپوزیشن پارٹیوں کے رابطے میں ہے ۔ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں حکومت کا وزیراعظم کیئر فنڈ کے سلسلے میں بھی آرڈینینس کو پاس کرانے کا منصوبہ ہے لیکن کانگریس کا اس سلسلے میں بھی سوال ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فنڈ میں جمع رقم کے سلسلے میں شفافیت ہو اور کیگ سے اس کی جانچ کرانے کا التزام بل میں کیا جانا چاہئے ۔مسٹر رمیش نے کہا کہ معیشت کی حالت خطرناک ہوچکی ہے اور بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اس لئے کانگریس اس مسئلے کو بھی پارلیمنٹ میں زور شور سے اٹھائے گی۔ معیشت کے سلسلے میں بھی حکومت کی پالیسی کے سلسلے میں سوال پوچھا جائے گا کہ وہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے کیا قدم اٹھا رہی ہے ۔ بے روزگاری بلندی پر ہے اور چھوٹی صنعتوں کے سامنے بحران کی حالت ہے ،اس پر بھی حکومت کو جواب دینا چاہئے ۔کانگریس رہنما نے کہا کہ کورونا کے مسلسل بڑھ رہے معاملوں اور اس ے نمٹنے میں اس کی کامیابی کے سلسلے میں بھی حکومت سے سوال پوچھے جائیں گے ۔ ساتھ ہی اس کی وجہ سے بے روزگار لوگوں کو روزگار مہیا کرانے کے سلسلے میں بھی حکومت سے معلومات لی جائے گی۔ رمیش نے کہاکہ چین سرحد پر چینی فوجیوں کی دراندازی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔