کے سی آر انتقامی پالیسی اپناتے تو کانگریس کے آدھے قائدین جیل میں ہوتے: ٹی ہریش راؤ
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سینئر رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا تحفظ کرنے میں ناکام ہونے والے حکمراں عوام کا کس طرح تحفظ کریں گے استفسار کیا۔ پارلیمنٹ سیشن کے دوران دو نوجوانوں کے ایوان میں پہنچ جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو بدبختانہ قرار دیا۔ نرساپور میں منعقدہ پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چہارشنبہ کو لوک سبھا میں زیرو اوور کے دوران ویزیٹرس گیلری سے دو نوجوانوں نے کود کر گیاس چھوڑنے پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ وہ عوام کا کیا تحفظ کرے گی۔ سارے واقعہ کی تحقیقات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مکمل تحفظ کرنے پر زور دیا۔ ہریش راؤ نے اسمبلی حلقہ نرساپور سے بی آر ایس کی امیدوار سنیتا لکشما ریڈی کو کامیاب بنانے پر عوام سے اظہار تشکر کیا۔ سابق وزیر نے کہا کہ اقتدار سے محروم ہو جانا صرف اسپیڈ بریکر ہے۔ بی آر ایس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے ہمیشہ عوام کے درمیان رہے گی۔ عوام کی آواز بن کر ایوانوںمیں گونجے گی۔ بی آر ایس کے ارکان سابق ارکان اسمبلی ہمیشہ عوام کو دستیاب رہیں گے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر فلاحی اسکیمات پر عمل کیا گیا ہے۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں بی آر ایس پارٹی خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کانگریس کے قائدین بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کو ذہنی طور پر پریشان کررہے ہیں۔ اس سے کسی کو پریشان اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حوصلہ رکھیں بہت جلد بی آر ایس کا سورج طلوع ہوگا۔ گرام پنچایت، مقامی اداروں کے علاوہ لوک سبھا انتخابات کی ابھی سے تیاری شروع کردینے کی پارٹی کیڈر سے اپیل کی اور کہا کہ انتخابات میں کامیابی اور شکست عام بات ہے۔ ہم ہماری غلطیوں کا جائزہ لیں گے اور اس کو درست کریں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے کبھی انتقامی پالیسی پر عمل نہیں کیا اگر ہاوزنگ اسکام کی تحقیقات کرائی جاتی تو کانگریس کے آدھے سے زیادہ قائدین جیل میں ہوتے ۔ ن