پاسکو قانون پر عمل آوری کیلئے عدلیہ اور سرکاری محکمہ جات میں تال میل ضروری

   


چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اجل بھویاں کا تاثر، ایک روزہ ورکشاپ میں چیف سکریٹری اور ہائی کورٹ کے ججس کی شرکت
حیدرآباد۔/6نومبر، ( سیاست نیوز) چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اجل بھویاں نے تلنگانہ میں پاسکو قانون پر موثر عمل آوری کیلئے سرکاری محکمہ جات اور عدلیہ کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ تلنگانہ جوڈیشیل اکیڈیمی کے زیر اہتمام پاسکو قانون سے متعلق سرکاری محکمہ جات اور رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں کیلئے منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کا چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ نے افتتاح کیا۔ اس موقع پر ہائی کورٹ کے ججس جسٹس بی شمیم اختر، جسٹس ونود کمار، جسٹس ابھیشیک ریڈی، جسٹس رادھا رانی، جسٹس نندا ، چیف سکریٹری سومیش کمار، ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی کے علاوہ اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ پاسکو قانون پر سختی سے عمل آوری کے ذریعہ خواتین اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے کہا کہ پاسکو قانون پر عمل آوری میں تلنگانہ حکومت دیگر ریاستوں کیلئے مثالی بن چکی ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام کے ذریعہ خاطیوں کو سزا دلانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو قانون پر عمل آوری کیلئے حکومت کے اقدامات کی کئی ججس نے ستائش کی ہے۔ محکمہ جات پولیس، بہبودی خواتین و اطفال کی نگرانی میں قانون پر موثر عمل آوری کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فاسٹ ٹریک کورٹس کیلئے حال ہی میں 40 پبلک پراسیکیوٹرس کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو قانون کے بارے میں عوام میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کیلئے تلنگانہ حکومت سنجیدہ ہے۔ حکومت نے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس کی نگرانی میں خواتین کے تحفظ کے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی جرائم کے واقعات سے بچانے کیلئے کئی قدم اٹھائے گئے۔ اس سلسلہ میں رضاکارانہ تنظیموں کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس سواتی لکرا، سکریٹری بہبودی خواتین و اطفال دیویا، سکریٹری محکمہ قانون نرسنگ راؤ، ڈائرکٹر جوڈیشیل اکیڈیمی تروملا دیوی اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے۔ر