مستقبل میں ریفائنری کے لئے بھی مزید اراضی دستیاب ۔پی سدرشن ریڈی و دیگر کا خطاب
نظام آباد۔ 30ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع میں آئیل پام فیکٹری کے قیام سے مقامی کسانوں کو مزید فوائد حاصل ہوں گے اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا،ان خیالات کا اظہار کیا ریاستی حکومت کے مشیر پی سدرشن ریڈی نے کیا ۔ حکومت کے مشیر سدرشن ریڈی نظام آباد رورل کے رکن اسمبلی ڈاکٹر آر بھوپتی ریڈی، کلکٹر بھویش مشرا، ریاستی اردو اکیڈمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان، ریاستی زرعی کمیشن کے رکن گڈو گنگادھر، آرمور سب کلکٹر ابھیگیان مالویہ، ایڈیشنل کلکٹر راجا گوڑ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ آج نندی پیٹ منڈل کے لَکّم پلی سیج سے متصل اراضی کا فیکٹری کے قیام کے مقصد سے تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر عہدیداروں کے ساتھ فیکٹری کے لیے نشان زدہ اراضی کی موزونیت، بنیادی سہولتوں اور مستقبل میں توسیع کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا عہدیداروں نے بتایا کہ مذکورہ مقام پر مستقبل میں ریفائنری کے قیام کے لیے بھی اراضی دستیاب ہے، جبکہ پڑوسی ضلع نرمل کا علاقہ بھی 50 کلومیٹر سے کم فاصلے پر واقع ہے۔ دونوں اضلاع میں پہلے ہی 17 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر آئیل پام کی کاشت جاری ہے اور مزید تقریباً 5 ہزار ایکڑ تک کاشت کا رقبہ بڑھنے کے امکانات ہیں، جس کے پیش نظر مقامی سطح پر آئیل پام فیکٹری کا قیام موزوں ثابت ہوسکتا ہے۔ پی سدرشن ریڈی نے عہدیداروں کو تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ اراضی کا حتمی انتخاب ہوتے ہی ریاستی وزیر زراعت تملا ناگیشور راؤ نے آئیل پام فیکٹری کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ مقامی سطح پر آئیل پام کی کاشت کا رقبہ بڑھانے سے کسانوں کو بہتر آمدنی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی خوردنی تیل کی ضروریات کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی۔ پی سدرشن ریڈی نے کہا کہ ضلع میں آئیل پام صنعت کے قیام سے کسانوں کو نمایاں مالی فوائد حاصل ہونے کے علاوہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لَکّم پلی سیج کے علاقے میں رائس بران آئیل اور سویا صنعتوں کے قیام کے لیے بھی اراضی دستیاب ہے اور حکومت ان صنعتوں کے قیام کے لیے بھی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں نامیاتی طریقہ کار کے تحت سبزیوں کی کاشت کے طریقوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ضلع میں بھی اسی طرز پر سبزیوں کی کاشت کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ کم بارش کے پیش نظر انہوں نے کسانوں کو پانی کے وسائل کے محتاط استعمال کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی ایک بوند بھی ضائع نہ ہونے دی جائے۔ پانی کی محدود دستیابی کے باعث یاسنگی موسم میں دھان کی کاشت کے بجائے متبادل فصلوں کی کاشت کو ترجیح دینے کی بھی انہوں نے اپیل کی۔ اراضی کے معائنہ کے موقع پر نظام آباد آر ڈی او راجندر کمار، ضلع باغبانی افسر سرینواس، نظام آباد مارکیٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین ناگیش ریڈی اور دیگر موجود تھے۔