نئی دہلی: بجلی اور جدید و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت ، پد یسو نائک نے آج لکھنو میں بجلی کی تقسیم کی عملداری سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے تشکیل کردہ وزراء کے گروپ کی تیسری میٹنگ کی صدارت کی۔اس میٹنگ میں اتر پردیش کے وزیر توانائی اے کے شرما، آندھرا پردیش کے وزیر توانائی گوٹی پتی روی کمار، مدھیہ پردیش کے وزیر توانائی پردیومن سنگھ تومر،مہاراشٹر کی وزیر توانائی محترمہ میگھنا ساکور بورڈیکراور، اتر پردیش کے توانائی کے وزیر سومیندر تومرنے شرکت کی ۔ اس میٹنگ میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، رکن ریاستوں کی ریاستی بجلی کمپنیوں، پاور فائنانس کارپوریشن (پی ایف سی) لمیٹڈ اور آر ای سی لمیٹڈ کے سینئر عہدیداروں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔اپنے ابتدائی کلمات میں مرکزی وزیر مملکت نے رکن ریاستوں کے توانائی کے وزراء کا خیرمقدم کیا اور میٹنگ کی میزبانی کرنے پر اتر پردیش کے وزیر توانائی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزراء کے گروپ کی پہلی دو میٹنگوں کے دوران ہونے والی بات چیت اور بجلی کی تقسیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے رکن ریاستوں سے متوقع اجتماعی کوششوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹی کی ذمہ داریوں کی مالی تنظیم نو، یوٹیلٹی پر سود کے بوجھ کو کم کرنے ، اسٹوریج کے حل کی ترقی، زراعت کے لیے دن کے وقت بجلی کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے ایک طریقہ کار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بجلی کی خریداری کی مجموعی لاگت کو کم کیا جا سکے اور سبسڈی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے ۔وزیر موصوف نے اے آئی اور ڈیجیٹل اختراعات کو نافذ کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، اور بجلی کے شعبے کی مالیاتی عملداری کے لیے لاگت کی عکاسی کرنے والے نرخ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات پر عمل درآمد سے یوٹیلٹی کو مالی استحکام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔