یوم آزادی کے موقع پر کورنا وائرس سے آزاد ہونے کا عہد کرنے ہر شہری پر زور۔مودی کی من کی بات
نئی دہلی ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز یوم کارگل فتح کے موقع فوجی جوانوں کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی بہادری نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔ اسی دن کارگل میں ہندوستانی فوجی دستوں نے 1999 میں پاکستانی فوج کو شکست دی تھی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹ کیا ’’کارگل وجے دیوس پر ہم اپنے فوجی جوانوں کی بہادری اورعزائم کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے 1999 میں ہمارے ملک کی مضبوطی سے حفاظت کی۔ ان کی بہادری نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔ مودی نے آج اپنے پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا ذکر کیا‘‘۔ وزیر اعظم مودی کا آج آکاشوانی پر67 ویں بار’من کی بات‘ پروگرام تھا۔ کارگل میں 21 سال قبل ہندوستان نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ 21 سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 26 جولائی 1999 کو ہندوستان نے کارگل جنگ میں پاکستان پر جیت حاصل کی تھی۔ تقریباً 60 دنوں تک چلی یہ لڑائی برفیلے علاقوں میں ہندوستانی فوج کی جانبازی اور بہترین ہمت کی ایک مثال ہے۔ خود پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے مانا تھا کہ کارگل پر حملہ پاکستانی فوجیوں کے لئے قہر بن کر ٹوٹا۔ مانا جاتا ہے کہ اس لڑائی میں پاکستان نے 2 ہزار سے زیادہ فوجی گنوا دیئے تے اور 1965 اور 1971 کی لڑائی سے بھی زیادہ پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ حالانکہ مارے گئے پاکستانی فوجیوں کی تعداد کی کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ کارگل جنگ کو آپریشن وجے کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 1999 کی مئی سے جولائی کے درمیان کشمیر کے کارگل ضلع میں ہوئی مسلح جنگ ہے۔ تب پاکستانی فوجیوں نے ہندوستان۔ پاکستان کی سرحد پار کرکے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
اس کے لئے انہوں نے کشمیری دہشت گردوں کی مدد بھی لی تھی۔ پاکستان کا مقصد اس دراندازی کے ذریعہ سیاچن گلیشیر سے انڈین آرمی کو ہٹا دینا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے آپریشن بدر شروع کیا اور فوجیوں کو کارگل بھیجا۔وزیر اعظم مودی نے من کی بات میں کہا کہ پاکستان نے اس وقت ہندوستان کی پیٹھ میں چھرا کھونپنے کی کوشش کی جب ہندوستان پڑوسی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتربنانا چاہتا تھا اور دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔ لیکن ہندوستانی فوج نے اپنی بہادری سے وہ کام کیا جس کو دنیانے دیکھا۔وزیر اعظم نے ہر شہری پر زور دیا کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر کورونا وائرس سے آزاد ہونے کا عہد کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ یوم آزادی مختلف ماحول اور حالات میں منایا جائے گا ۔ اس مرتبہ سب خود انحصار بھارت کا بھی عہد کرنا ہے۔کچھ نیا سیکھنا اور سکھانا ہے اور ساتھ ہی اپنے فرائض کو پورا کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کورنا وائرس اب بھی خطرناک ہے اس سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دوسرے ممالک کے مقابل ہندوستان میں مریضوں کے ٹھیک ہونے کی شرح بہتر ہے جبکہ شرح اموات بھی دوسروں سے کم ہے ۔کورونا وائرس پھر بھی خطرناک ہے اور بعض علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔اس سے چوکسی ضروری ہے اور سماجی فاصلہ برقرار رہنا بہت اہم ہے ۔وزیر اعظم نے من کی بات میں طلباء سے بھی بات چیت کی اوربورڈ امتحانات کے نتائج کے بعد انہیں مبارکباد بھی پیش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بعض ریاستوں میں سیلاب سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سارا ملک اس آفت کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں ہرممکن امداد فراہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ وزیراعظم نے اس دوران وبائی امراض سے چوکسی اختیاری کرنے اور صاف صفائی پر توجہ دینے کی بھی عوام سے اپیل کی ۔
وزیر اعظم مودی نے فون پر پانی پت کی کریتکا سے بات کی
پانی پت :وزیراعظم نریندر مودی نے ہریانہ میں پانی پت کے گاوں مہارانا کی طالبہ کریتکا ناندل سے من کی بات پروگرام کے تحت جب براہ راست بات کی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ مودی نے کریتکا سے بات کرتے ہوئے اسے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن ، بارہویں کے امتحان میڈیکل میں 96 فیصد نمبر حاصل کر نے پر مبارک باد پیش کی۔وزیراعظم کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہے ۔
اس پر مسٹر مودی نے کہا کہ ڈاکٹر کے فرائض کو ادا کرنا کافی مشکل ہے تو کریتکا نے فوراًجواب دیا کہ وہ اس کے لئے تیار ہے ۔اس نے بتایا کہ والد کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد اس کی ماں نے دیگر کاموں کے علاوہ بھی اس کی تعلیم میں پوری مدد کی۔پوچھے جانے پربتایا کہ اس کی ماں بھی گریجویٹ ہیں۔اسی کڑی میں اتوار کو پانی پت گرامین ایم ایل اے مہیپال ڈھانڈا اور ڈپٹی کمشنردھرمیندر سنگھ اپنی اہلیہ سمیت کریتکا کو مبارک باد دینے گاوں مہارانا پہنچے ۔رکن اسمبلی مہیپال ڈھانڈا نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے خوشی کا لمحہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم نے اس بچی سے بات کی۔کریتکا بڑی ہوکر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے ۔یہ اپنے خواب کو پورا کرے یہی ہم سب کی کوشش رہے گی۔ڈپٹی کمشنر دھرمیندر سنگھ نے کریتکا کو دعا دیتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے کریتکا کو ہر ممکن مدد مہیا کرائی جائے گی۔کریتکا کی بات پورے ہندوستان نے سنی ہے ۔پانی پت کی زمین سے ہی بیٹی بچاو بیٹی پڑھاومہم کی شروعات کی گئی تھی،جس کا آغاز خود وزیراعظم نے کیا تھا۔