پاکستان کے بشمول کئی ممالک سخت معاشی دباؤ کا شکار

,

   

اسلام آباد : عالمی وبا کورونا وائرس، یوکرین اور روس کے مابین جاری جنگ کے سبب اور قرضوں کے بوجھ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے بوجھ کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد معاشی اعتبار سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ لبنان، سری لنکا، روس، سورینام اور زیمبیا پہلے ہی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، بیلاروس خطرے کے دہانے پر ہے اور کم از کم مزید ایک درجن ممالک خطرے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قرض کے بڑھتے اخراجات اور مہنگائی، معاشی تباہی کے خدشات کو جنم دے رہی ہے ۔ تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ بہت سے ممالک اب بھی دیوالیہ ہونے سے بچ سکتے ہیں، خاص طور پر اگر عالمی مارکیٹیں سازگار رہیں اور آئی ایم ایف کی حمایت بھی حاصل رہے لیکن حسب ذیل ممالک اس وقت خطرے میں ہیں:
پاکستان: پاکستان نے رواں ہفتہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا، یہ پیش رفت اس لحاظ سے بروقت ہے جب توانائی کی بھاری درآمدی قیمتوں نے ملک کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے دہانے پر دھکیل دیا ہے ۔غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 9 ارب 80 کروڑ ڈالر تک گر چکے ہیں جو بمشکل 5 ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے جبکہ پاکستانی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔نئی حکومت کو اب تیزی سے اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے جو اپنی آمدنی کا 40 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ کرتی ہے ۔
یوکرین: مورگن اسٹینلے اور آمونڈی جیسے بڑے سرمایہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ روس کے حملے کے نتیجے میں یوکرین کو تقریباً یقینی طور پر 20 ارب ڈالر کے قرض کی ری اسٹرکچرنگ کرنی پڑے گی۔یہ بحران ستمبر میں آئے گا جب ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے بانڈز کی ادائیگیاں واجب الادا ہوں گی، امدادی رقم اور ذخائر کا مطلب ہے کہ کیف ممکنہ طور پر ادائیگی کر سکتا ہے لیکن رواں ہفتے یوکرین کی سب سے بڑی تیل اور گیس کی سرکاری کمپنی ‘نفتوگاز’ نے 2 سال تک قرضوں کی ادائیگی کو منجمد کرنے کا مطالبہ کیا جس سے سرمایہ کاروں کو شبہ ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی۔
تیونس: آئی ایم ایف کے پاس جانے والے کئی افریقی ممالک ہیں لیکن ان میں تیونس سب سے زیادہ خطرے میں نظر آتا ہے ، 10 فیصد کے قریب بھاری بجٹ خسارے کی موجودگی میں یہ خدشات بھی درپیش ہیں کہ صدر قیس سعید کی جانب سے اپنے اقتدار اور ملک کی طاقتور مزدور یونین پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کا حصول یا کم از کم اس پر قائم رہنا مشکل ہو سکتا ہے ۔
گھانا: مسلسل قرضے لینے سے گھانا کے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 85 فیصد تک بڑھ گیا ہے ، اس کی کرنسی ‘سیڈائی’ رواں سال اپنی قدر کا تقریباً ایک چوتھائی کھو چکی ہے اور یہ پہلے ہی قرض کے سود کی ادائیگیوں پر ٹیکس محصولات کا نصف سے زیادہ خرچ کر رہا تھا جبکہ مہنگائی بھی 30 فیصد کے قریب پہچ چکی ہے ۔
مصر: مصر کے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 95 فیصد کے قریب ہے اور اس نے رواں سال بین الاقوامی نقد رقم کا سب سے بڑا اخراج دیکھا ہے ، جو کہ جے پی مورگن کے مطابق تقریبا 11 ارب ڈالر ہے ۔فنڈ فرم ایف آئی ایم پارٹنرز کا اندازہ ہے کہ مصر کے پاس آئندہ 5 سالوں میں ہارڈ کرنسی کا 100 ارب ڈالر کا واجب الادا قرض ہے ، جس میں 2024 میں 3.3 ارب ڈالر کے بانڈز بھی شامل ہیں۔مصر میں پاؤنڈ کی قدر میں 15 فیصد کمی آئی اور مارچ میں آئی ایم ایف سے مدد طلب کی گئی لیکن بانڈ اسپریڈز اب 1,200 بیسس پوائنٹس سے زیادہ ہیں۔
ایتھوپیا: ایتھوپیا ‘جی-20 کامن فریم ورک پروگرام’ کے تحت قرضوں میں ریلیف حاصل کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک بننے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے پیش رفت روک دی گئی ہے تاہم اس دوران یہ اپنے ایک ارب ڈالر کے واحد بین الاقوامی بانڈ کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہے ۔