ایک سال قبل معلنہ منصوبہ پر عمل کرنے میں سرکاری محکمہ جات کو کوئی دلچسپی نہیں
حیدرآباد۔20۔نومبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے پرانے شہر کیلئے معلنہ منصوبوں پر عمل کے معاملہ میں بے اعتنائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیدار پرانے شہر کے متعلق متعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے پرانا پل کی عظم رفتہ کو بحال کرنے کا ایک سال قبل اعلان کیا گیا تھا اور جلد ہی تمام قبضہ جات کو برخواست کرواکر مرمتی کاموں کو شروع کرنے احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ پرنسپل سیکریٹری بلدی نظم ونسق مسٹر اروند کمار نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں اعلان کیاتھا کہ جلد پرانا پل کی عظمت رفتہ کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ کاروان و گولکنڈہ کو چارمینار سے جوڑنے والے اس قدیم پل کی تاریخی اہمیت ہے اور یہ پل 1578 میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ پرانا پل کی ترقی اور اس کے تحفظ کے اقدامات کے طور پر مسٹر جی کشن راؤ آئی اے ایس ریٹائرڈ نے 2002 میں پرانے پل کو ’پیارانہ پل‘ میں تبدیل کرکے اس کی آہک پاشی کی تھی اور اس پل پر جوڑوں کی چہل قدمی کی سہولت فراہم کرکے عالمی یوم سیاحت کے موقع پر خصوصی پروگرام رکھا گیا تھا لیکن چند یوم بعد دوبارہ پل پر قبضوں کا سلسلہ شروع ہوگیا لیکن اب ایک مرتبہ پھر محکمہ بلدی نظم ونسق نے اس تاریخی پل کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے ۔600 فیٹ طویل ‘ 35فیٹ چوڑے اور ندی کی سطح سے 54 فیٹ اونچائی پر تعمیر اس پل میں مجموعی طور پر 22 کمانیں ہیں جہاں سے پانی کا بہاؤ ہوتا ہے ۔ عالمی یوم سیاحت 2002 کے موقع پر اس قدیم پل کی رونق کو بحال کرنے اقدامات کئے گئے تھے لیکن وہ برقرار نہیں رکھے جاسکے کیونکہ اس برج پر ترکاری و میوہ فروشوں نے قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اروند کمار نے بتایاتھا کہ پرانا پل کے آہک پاشی اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنے کام جلد شروع کئے جائیں گے اور شہر کے تاریخی ورثہ کے تحفظ میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مسٹر اروند کمار نے محکمہ آثارقدیمہ کے علاوہ بلدیہ حیدرآباد کو مکتوب میں پرانا پل کے تحفظ اور اس کی خوبصورتی کی برقراری کیلئے منصوبہ بندی کرکے جلد انہیں روانہکرنے کی ہدایت دی تھی لیکن پرانا پل کی عظمت رفتہ کی بحالی کے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے جاسکے ہیں۔م