حیدرآباد۔ 23 فروری (سیاست نیوز) حیدرآباد کے قریب واقع پرانا پل میں بہروپیا گلی واقع ہے۔ شہر کے بہت سے لوگ اس نام سے واقف نہیں ہیں کیونکہ اب اس جگہ کو چندریکاپورم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعض ضعیف لوگ ’’بہروپیا گلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہو پایا کہ اسے اس نام سے کیوں پکارا جاتا تھا۔ بہروپیا لفظ سنسکرت کے الفاظ ،بہو‘ (بہت) اور ’روپ‘ (شکل) سے ملا کر بنایا گیا ہے۔ پرانا پل کے میونسپل میں جو 1913 میں موسی کے سیلاب کے بعد انجینئرس لیونارڈمن، اے ایف چنائے اور ٹی میکنتری کی نگرانی میں مکمل ہوا، دولین کو بہروپیا لین اور بہروپیا کچی اسٹریٹ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس گلی میں 200 کے قریب مکانات تھے۔ نظام کے دور میں بہروپیا اداکاروں کو حکومت کی طرف سے ان کی مہارت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ مورخ کیرن اساکن لیونارڈ نے اپنی ایک تحریر میں ذکر کیا تھا ’’نظام کے ارباب نشاط یا محکمہ تفریح میں طواٹن شامل ہیں جن کا ترجمہ عام طور پر درباری یا ناچنے والی اور گانے والی لڑکیاں، قوالیاں (موسیقار) اور بھانڈ یا بہروپیا (نقل، بھیس) کے طور پر کیا جاتا ہے۔ نظام حکومت کے زوال کے بعد بہروپیا سڑکوں پر کام کرنے والوں تک محدود ہوگئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے قصبوں اور شہروں میں منتقل ہوگئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فنکاروں کی کچھ نسلیں آج بھی ان مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں لیکن اب وہ اس پیشہ سے وابستہ نہیں ہیں۔ (ش)