7 روڈی شیٹر اور اس کی ٹولی کے حملہ میں ایک نوجوان ہلاک، دیگر تین زخمی ، پولیس پر سوالیہ نشان
7 ہوٹلوں اور پان شاپس میں غنڈہ عناصر کی سرگرمیاں ، سماج بے بس و شرمندگی کا شکار
حیدرآباد /19 جون ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں امن و ضبط کی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے ۔ شہر میں آئے دن پیش آرہی قتل کی وارداتیں اور انتقامی کارروائیاں پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے ۔ کل رات پرانے شہر کے علاقہ کالاپتھر میں ایک روڈی شیٹر اور اس کی ٹولی کے حملہ میں ایک نوجوان ہلاک اور دیگر تین زخمی ہوگئے ۔ جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے ۔ دوکان بند کرنے کے بعد گھر واپس جارہے سید فخرالدین عرف رفیق عرف شملان پر غنڈہ عناصر کی ٹولی نے حملہ کردیا اور رفیق کو بچانے کی کوشش میں دیگر تین زخمی ہوگئے ۔ جن میں واجد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے ۔ اس حملہ میں رفیق برسر موقع ہلاک ہوگیا جبکہ واجد ہاسپٹل میں زیر علاج ہے ۔ رفیق بشارت نگر علاقہ مکہ کالونی کا ساکن تھا ۔ جو ایک فاسٹ فوڈ سنٹر چلایا کرتا تھا ۔ رات دیر گئے پیش آئی اس واردات سے پرانے شہر میں سنسنی پھیل گئی اور خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ آئے دن انتقامی کاررائیوں سے شہریوں میں سلامتی کا خوف پیدا ہوگیا ہے اور شہری پولیس کو ان حالات کا ذمہ دار مانتے ہیں ۔ پولیس کی موجودگی اور چوکسی کے باوجود اس طرح کے واقعات پولیس کی کارکردگی کو مجرمانہ غفلت ثابت کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ پولیس تلاشی مہم ، ڈرنک اینڈ ڈرائیو ، چبوترا مشن اور دیگر کاررائیوں میں سوشیل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے خوب تشہیر کرتے ہیں لیکن اصل اقدامات میں پولیس کی کاررائیاں ناکافی اور غفلت ثابت ہو رہی ہیں۔ شہر میں غیر سماجی عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیاں صرف رسمی ثابت ہو رہی ہیں۔ روڈی شیٹرس کی کونسلنگ اور انہیں پابند مچلکہ کرنا معمول کی بات بن گیا ہے جبکہ ان کی حرکتوں اور غیر سماجی سرگرمیوں پر روک لگانے میں پولیس پر ناکامی کے الزامات پائے جاتے ہیں ۔ پولیس پر فرینڈلی پولیسنگ کی آڑ میں انہیں چاندی بنانے کے بھی سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں۔ جس کے سبب روڈی شیٹرس اور غنڈہ عناصر کے حوصلے دن بہ دن بلند ہوتے جارہے ہیں۔ پیشہ ور مجرمین اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد پر سے کیا پولیس نے اپنی نظر ہٹالی ہے ۔ جس کے سنگین نتائج آئے دن سماج میں رونما ہونے لگے ہیں۔ ابھی آصف نگر ، سنسنی خیز قتل کا معاملہ تازہ ہی تھا کہ پرانے شہر کے کالاپتھر میں قتل کی واردات پیش آئی ۔ آصف نگر کا واقعہ انتقامی کارروائی تھا تو کالاپتھر کا واقعہ بھی ایسی نوعیت کا ہے ۔ اس حملہ میں روڈی شیٹر اسد اور اس کی ٹولی کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقہ میں روڈی شیٹرس اور غنڈہ عناصر کی سرگرمیاں عروج پر ہیںجو سارے سماج کیلئے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بنتی جارہی ہے ۔ جن علاقوں میں روڈی شیٹرس رہتے ہیں ان علاقوں میں تیار ہونے والی سازشوں کو پولیس کی ڈھیل ہی موقع فراہم کر رہی ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے کالاپتھر کے علاقہ جات کیر ویل ہاسپٹل کے قریب بشارت نگر ، مدینہ فنکشن ہال اور مدینہ گلی کے قریب علاقوں میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں دیکھی گئیں اور شاہ علی بنڈہ کے حدود میں رات دیر گئے تک ہوٹلوں اور پان شاپس کھلی رہتی ہیں جو روڈی عناصر کی سرگرمیوں میں بڑھاوے اور غیر سماجی عناصر کی نقل و حرکت میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں ۔ سید فخرالدین عرف رفیق عرف شملان کے قتل کیس میں پولیس شاہ علی بنڈہ نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور مصروف تحقیقات ہے ۔ ع