400 جائیدادوں کے حصول اراضیات کیلئے نوٹیفکیشن کی اجرائی، میٹرو ایم ڈی، این وی ایس ریڈی
حیدرآباد ۔ 24 اگست (سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حصول اراضیات کے کاموں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے منیجنگ اڈئرکٹر این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ تک تقریباً 7.5 کیلو میٹر میٹرو ریل چلانے کیلئے 1200 جائیدادیں حاصل کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قانون حصول اراضیات 2013ء کے تحت 400 جائیدادوں کے حصول کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ مختلف اخبارات میں نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جائیدادوں کے حصول کیلئے عمل میں تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ جی ایچ ایم سی کے ماسٹر پلان کے مطابق 100 فیٹ سڑک توسیع کی جائے گی۔ این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ جن مقامات پر میٹرو اسٹیشن تعمیر کئے جائیں گے، وہاں 120 فیٹ چوڑی سڑکیں توسیع کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ دارالشفاء جنکشن سے شاہ علی بنڈہ تک فی الحال 50 تا 60 فیٹ سڑکیں ہیں۔ شاہ علی بنڈہ جنکشن یا چندرائن گٹہ جنکشن تک 80 فیصد سڑکیں ہیں۔ لہٰذا دارالشفاء تا شاہ علی بنڈہ کے درمیان زیادہ تر جائیدادوں کے معاملے میں ہر جائیداد کو 20 تا 25 فیٹ تک توسیع دینے کی ضرورت ہے اور اس طرح شاہ علی بنڈہ تا چندرائن گٹہ تک ہر ایک پراپرٹی 10 فیٹ تک توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ ایم ڈی میٹرو ریل نے کہا کہ جن علاقوں میں میٹرو اسٹیشن تعمیر کئے جارہے ہیں، وہاں زیادہ سڑکوں کی توسیع کی ضرورت پڑے گی۔ این وی ایس ریڈی نے کہا کہ روایتی سروے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ 3D میں دکھائی دینے کیلئے لائڈر “lider” ڈرین سروے بھی کیا گیا۔ اس سروے میں متاثرہ جائیدادوں کے ساتھ ساتھ اطراف و اکناف کی خصوصیات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کے انجینئرس اور عملہ متاثرہ ڈھانچوں کی مالیت کا اندازہ لگانے کیلئے فیلڈ سطح پر سروے کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ 7.5 کیلو میٹر طویل میٹرو کوریڈور میں 103 مذہبی اور حساس تعمیرات ہیں۔ ان کی حفاظت کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔ این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ 8 ماہ میں حصول اراضیات کا کام مکمل ہوجائے گا۔2