75 فیصد آمدنی حکومت کی 25 فیصد آمدنی اڈانی کی، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 29 جون (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے پرانے شہر میں برقی کی سربراہی اور برقی وصولی کی ذمہ داری اڈانی گروپ کے حوالے کرنے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔ دہلی میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ حکومت کی جانب سے محکمہ برقی کو مستحکم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر اصلاحات کرتے ہوئے برقی کے نقصانات کو گھٹانے اور بقایا جات کو وصول کرنے پر ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ ساوتھ تلنگانہ پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن (ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل) کے بوجھ بن جانے والے چند سرکلس کو خانگی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد زون میں زیادہ نقصانات کا شکار رہنے والے ساوتھ سرکل کی ذمہ داری مصروف صنعتکار اڈانی کی ملکیت والی کمپنی کو دینے کا اتفاق کیا گیا ہے۔ پائلیٹ پراجکٹ کے طور پر برقی کی سربراہی اور برقی بلز کی وصولی اڈانی گروپ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر میں برقی نظام کو باقاعدہ بنانے تکنیکی مسائل کی یکسوئی اور مؤثر سربراہی کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرانے شہر میں زیرزمین برقی لائن بچھاتے ہوئے سارے نظام کو بدل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جملہ آمدنی کا 25 فیصد اڈانی گروپ کو جائے گا ماباقی 75 فیصد آمدنی سرکاری خزانے میں جمع ہوگی۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ پائلیٹ پراجکٹ پرانے شہر میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کو سارے حیدرآباد میں توسیع دی جائے گی۔ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ساری ریاست میں توسیع دینے سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے 9 سرکلس کے حدود میں رہائشی ؍ تجارتی شعبوں میں 60 لاکھ برقی کنکشنس ہیں۔ ہر ماہ بلز کی شکل میں 900 کروڑ روپئے وصول ہوتے ہیں۔ گذشتہ مئی تک 380 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ رقم حیدرآباد ساؤتھ سرکل میں 83.4 کروڑ، راجندر نگر میں 63.8 کروڑ، حبشی گوڑہ میں 48.3 کروڑ، حیدرآباد سنٹرل میں 45.4 کروڑ، سائبرسٹی میں 45.4 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی سرکلس میں 41 فیصد کے نقصانات بھی ہیں۔2