بلدی عہدیداروں کے بڑے سیاستدانوں سے تعلقات، کمشنر بلدیہ اور ویجلنس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت
حیدرآباد۔19 اپریل (سیا ست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں ہونے والی دھاندلیوں کے معاملہ میں کمشنر مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد اور محکمہ ویجلنس حکومت تلنگانہ کو فوری حرکت میں آتے ہوئے کاروائی کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ جی ایچ ایم سی میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے نام پر جاری دھاندلیوں کو روکتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی آمدنی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔دونوں شہروںکے علاوہ بلدی حدود میں موجود جائیدادوں کے ٹیکس کی وصولی کے معاملہ میں جاری دھاندلیوں کے سلسلہ میں اس بات کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں کہ جائیداد ٹیکس کی رقم وصول کرتے ہوئے آن لائن ٹیکس دہندہ کو یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس کا ٹیکس ادا ہوچکا ہے اور بلدی ریکارڈس سے بھی وہ ٹیکس ادائیگی کو حذف کردیا جانے لگا ہے لیکن درحقیقت ٹیکس کی ادائیگی نہیں ہورہی ہے ۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کے پورٹل پر ان ادائیگیوں کی تفصیلات نہیں دکھائی جار ہی ہیں جو کہ ٹیکس دہندہ سے بدعنوانیوں کے ذریعہ حاصل کی گئی ہیں۔دونوں شہروں میں جاری اس طرح کی بدعنوانیوں کے سلسلہ میں بلدیہ کے ہی ایک عہدیدار نے بتایا کہ درمیانی افراد یہ ٹیکس دہندہ کو 50 فیصد تک رعایت یا گھر تک سہولت کی فراہمی کا لالچ دیتے ہوئے رقومات وصول کرتے ہوئے اس کا کچھ حصہ بلدیہ کے پراپرٹی ٹیکس شعبہ میں بدعنوان افراد کو دیتے ہیں اور آن لائن ٹیکس کی تفصیلات کو حذف کرواتے ہوئے سادہ کاغذ پر رسید کی طرح ایک بل جاری کردیتے ہیں جس پر کوئی بلدیہ کا لوگو یا اسٹامپ نہیں ہوتا ۔ان دھاندلیوں میں شہر کے سرکردہ سیاسی تعلقات کے حامل افراد کے علاوہ بلدی عہدیدار ملوث ہیں جو کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی اور اس میںرعایت کے نام پر جی ایچ ایم سی کو کروڑہا روپئے کا نقصان پہنچارہے ہیں اور ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں۔3؍M؍V