کابل: طالبان حکومت کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ حال ہی میں متعارف کرائے گئے نئے قوانین پر خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی برادری کے خدشات دور کرنے وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا کے مطابق طالبان نے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے یہ پیشکش اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کی۔صحافیوں کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں طالبان کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ اسلامی قانون پر تمام ممالک اور تنظیموں کے ساتھ مثبت بات چیت کے لیے پْرعزم ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ اسلامی قوانین کو سمجھے بغیر تنقید کرنا ‘تکبر’ کی نشانی ہے۔ طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ مشکلات کے حل اور تعلقات میں مضبوطی اور توسیع کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ قبل ازیں طالبان حکومت کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عب المنکر نے اقوام متحدہ کے ساتھ نئے قوانین پر مزید تعاون سے انکار کردیا تھا۔طالبان کے نماز اور پردے سے متعلق قوانین پر اقوام متحدہ نے اظہارِ تشویش کیا تھا۔ طالبان حکومت کے نئے قانون میں خواتین کو چہرہ ڈھانپنے اور عوامی مقامات پر اپنی آواز پست رکھنے کے کا حکم دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سزا ہوسکتی ہے۔جس پر عالمی قیادت اور بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ خواتین کے حقوق پر ضرب لگانے والے قوانین کی وجہ سے طالبان کے ساتھ جاری تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔طالبان کی جانب سے ملک میں خواتین پر اسلامی شریعت کے مطابق پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔