پروفیسر ناگیشور راؤ کو گریجویٹ حلقہ سے تیسری مرتبہ کامیابی کا یقین

   

ٹی آر ایس کی تائید کا الزام مسترد، طلبہ اور سرکاری ملازمین کی تائید کا دعویٰ
حیدرآباد: ایم ایل سی گریجویٹ حلقہ حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور محبوب نگر کے بائیں بازو کے تائیدی امیدوار پروفیسر کے ناگیشور راؤ نے تیسری مرتبہ کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ۔ وہ اس حلقہ سے دو مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں اور تیسری مرتبہ بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ناگیشور راؤ کی تائید کا اعلان کیا ہے اور یونیورسٹیز اور کالجس کے طلبہ کی جانب سے مہم چلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی گریجویٹس کے حقیقی مسائل کے حل میں نا کام ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اور اساتذہ کی تنظیمیں ان کی مکمل تائید کر رہی ہیں۔ ناگیشور راؤ نے بتایا کہ 2007 اور 2009 ء میں وہ بحیثیت آزاد امیدوار کامیاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ناگیشور راؤ نے مقابلہ نہیں کیا تھا اور بی جے پی کے رام چندر راؤ کامیاب رہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور ان کے افراد خاندان کے مسائل کی یکسوئی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ ایم ایل سی کے بغیر بھی انہوں نے سرکاری ملازمین اور طلبہ کے مسائل پر جدوجہد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بیروزگاری ایک اہم و سنگین مسئلہ ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5.3 لاکھ رائے دہندوں میں سے 50,000 سے زائد نے انہیں شخصی طور پر میسیج کے ذریعہ اپنی تائید کا یقین دلایا ہے ۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ وہ ٹی وی اور سوشیل میڈیا پر عوامی مسائل اور مباحث میں حصہ لیتے ہوئے عوام میں اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ انتخابی مہم میں انہوں نے سوشیل میڈیا کا سہارا لیا اور مختلف شعبہ جات کے اجلاس منعقد کئے ۔ بی جے پی کو نقصان پہنچانے کیلئے ٹی آر ایس کی تائید سے مقابلہ کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ناگیشور راؤ نے کہا کہ بی جے پی اس طرح کے گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ مہم کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ میں نے دو مرتبہ بی جے پی کو شکست دی تھی۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس دونوں عوامی مسائل سے بے پرواہ ہیں ۔ سماج کے مختلف طبقات میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ حلقہ میں پانچ ہزار سے زائد ریٹائرڈ بینک ایمپلائیز ہیں جنہوں نے تائید کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے خاموش لہر کے ذریعہ تیسری مرتبہ کامیابی کو یقینی قرار دیا۔