7 گرفتار،4 دیگر زندہ جنگجوؤں میں 3 پاکستانی شامل:جے اینڈ کے پولیس
سرینگر: جموں و کشمیر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس (اے ڈی جی پی) وجے کمار کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے میں ملوث 19 جنگجوؤں میں سے8 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ7گرفتار اور 4جن میں سے3 پاکستانی جنگجو ہیں، ابھی زندہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں کے دوران جیش محمد کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس کے لگ بھگ تمام اعلیٰ کمانڈروں کو مارا گیا ہے ۔موصوف اے ڈی جی پی نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز پلوامہ حملے میں جان بحق ہوئے سی آر پی ایف اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘ پلوامہ حملے میں ملوث 19 جنگجوؤں میں سے 8 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ 7 گرفتار اور4جن میں سے 3پاکستانی جنگجو ہیں، ابھی زندہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تن برسوں کے جیش محمد کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس کے لگ بھگ تمام اعلیٰ کمانڈروں کو مارا گیا۔ کمار نے کہا کہ اس وقت جش محمد کے 7 سے 8 مقامی جنگجو اور5 سے 6 پاکستانی جنگجو جن میں موسیٰ سلیمانی بھی شامل ہے ، سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس ان کے پیچھے ہے اور ان کو بھی بہت جلد مارا یا پکڑا جائے گا۔ان کا کہنا تھا: ‘جنگجوؤں کے ماڈیولز کو تباہ کیا جا رہا ہے اور نارکو دہشت گردی اور ٹیرر فنڈنگ پر زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک41 لاکھ روپیے ضبط کئے ہیں اور بارہمولہ میں حال ہی میں 26 لاکھ روپیے بر آمد کئے گئے ۔موصوف اے ڈی جی پی نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث جنگجو اعانت کاروں کے خلاف کیسوں کو نپٹایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کیسوں کی تعداد گذشتہ سال کے ماہ اکتوبر میں 16 سو تھی جو گھٹ کر آج 950 رہ گئی ہے اور اس کے علاوہ 13 کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔