پلیسیز آف ورشپ ایکٹ پر سماعت نہ کرنے سپریم کورٹ سے اپیل

   


آج سماعت سے عین قبل مسلم پرسنل لا بورڈ کی عدالت عظمی میں درخواست

نئی دہلی : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواست داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ میں11اکتوبر کو اس معاملہ کی سماعت ہونے والی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ 1991 کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو عرضی داخل کی ہے، اس میں سپریم کورٹ سے بابری مسجد انہدام کے دوران ہوئے فسادات اور ممبئی دھماکہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے بورڈ نے کہا ہے کہ ایکٹ کے رد ہونے سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی۔مسلم فریق جمعیت علما ہند اور اے آئی ایم پی ایل بی نے پہلے سپریم کورٹ سے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواست میں نوٹس جاری نہیں کرنے کی اپیل کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد انہدام اور ایودھیا فیصلہ کی وجہ سے ہوئی فرقہ وارانہ تقسیم سے ابھی ابھر رہے مسلم طبقہ کے ذہن میںیہ خوف پیدا کرے گا۔ مسلم فریق کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ اگر اس معاملہ کو سنتا ہے تو مستقبل میں ملک میں ان گنت مساجد کے خلاف مقدموں کی جھڑی لگ جائے گی۔ اسی کو لے کر مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ 1991 کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت نہیں کرنے کی مانگ کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں 11 اکتوبر کو اس معاملہ کی سماعت ہونے والی ہے اور اس سماعت سے دو دن پہلے مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی عرضی داخل کی ہے۔