کئی متاثرین کی حالت تشویشناک‘ایک کلو میٹر کے علاقہ کو سیل کردیا گیا
نئی دہلی: پنجاب کے شہر لدھیانہ میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے 11 افراد کی موت ہوگئی۔ لدھیانہ کے گیاس پورہ علاقہ کے گوئل دودھ پلانٹ میں زہریلی گیس کا اخراج اتوار کی صبح پیش آیا۔ اس واقعہ میں گیارہ افراد کی موت ہو گئی اور 12 دیگر کو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن میں تین خواتین اور دو بچے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرین کو ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔ واقعہ سے مقامی افراد میں خوف وہراس پھیل گیا۔ساڑھے سات بجے کے قریب گیاس پورہ میں ایک رہائشی عمارت میں گیس کا اخراج ہوا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر ڈپارٹمنٹ کی مدد سے بے ہوش لوگوں کو ایمبولینس میں ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک کلومیٹر تک کے علاقے کو سیل کر دیا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔گیس لیکیج کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے، این ڈی آر ایف کی ٹیم ریسکیو آپریشن کے لیے موقع پر پہنچ گئی ہے اور فائر عملہ بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ پنجاب کے چیف منسٹر بھگونت مان نے اس واقعہ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ پنجاب حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپئے کے معاوضے کا اعلان کیا۔ لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر سوربھی ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت زخمیوں کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کونسی گیس یا کیمیکل لیک ہوا تھا اور یہ لیک کس حد تک پھیلا ہے اس کی جانچ کے لیے نمونے لئے گئے ہیں۔ علاقہ کے لوگوں کو الرٹ رہنے اور ماسک پہننے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سیل شدہ علاقہ کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔ لدھیانہ کے گیاس پورہ علاقہ میں صبح سویرے گھر میں چلنے والے دودھ پلانٹ میں گیاس لیک ہونے کے حادثے میں 11 افراد کی موت اور متعدد دیگر متاثر ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ صبح دودھ لینے کیلئے باہر نکلے اور کئی افراد سڑک پر بیہوش پائے گئے۔
