پنجاب میں کانگریس کو چیلنجس

   

Ferty9 Clinic

ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ ان میں اترپردیش سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ریاست ہے اور دوسرے نمبر پر پنجاب ہے ۔ پنجاب میں کانگریس پارٹی کو اقتدار حاصل ہے اور وہ اس بار اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ چند ماہ قبل تک ریاست میںکانگریس کا موقف مستحکم رہا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ کانگریس کیلئے انتخابات میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی ۔ تاہم چند ماہ میں صورتحال تبدیل ہوتی گئی ہے اور کانگریس کیلئے حالات انتہائی ناگفتہ بہ نہیں ہوئے ہیں لیکن مشکل ضرور ہوگئے ہیں۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی نے ریسات کے عوام تک پہونچنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی کوششوں میں شدت پیدا کردی ہے اور جو تاثر مل رہا ہے اس کے مطابق عوام کی کچھ تعداد ضرور عام آدمی پارٹی کی سمت راغب بھی ہو رہی ہے ۔گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی حالانکہ ماحول اسی طرح کا بن گیا تھا جب عام آدمی پارٹی کو اقتدار کی دعویدار کہا جا رہا تھا لیکن اسے 20 نشستوں سے ہی کامیابی ملی تھی ۔ اس بار بھی پارٹی کنوینر و چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال پوری شدت کے ساتھ پنجاب میں پارٹی کو اقتدار دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مسلسل ریاست کے دورے کرتے ہوئے عوام کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس کیلئے عام آدمی پارٹی کی مہم کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ضرور ہونگے اور کانگریس کی عوامی تائید میں کمی ہوسکتی ہے ۔ دوسری جانب کانگریس کیلئے داخلی صورتحال بھی اچھی نہیں رہ گئی ہے ۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے کیپٹن امریندر سنگھ مستعفی ہوچکے ہیں۔ چرنجیت سنگھ چنی چیف منسٹر بنادئے گئے ہیں۔ پردیش کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو ہمیشہ کی طرح مطمئن نظر نہیں آتے ۔ اس کے علاوہ کچھ قائدین کو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ پارٹی سے ترک تعلق بھی کر رہے ہیں۔ ان میں خود چیف منسٹر چنی کے بھائی بھی شامل ہیں ۔ چنی کے بھائی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ کل ہی ایک رکن اسمبلی نے بی جے پی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا ۔
چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی حالانکہ ممکنہ حد تک عوامی تائید کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شرومنی اکالی دل کا بی ایس پی سے اتحاد ہوا ہے لیکن وہ بھی اقتدار حاصل کرنے کے موقف میں نظر نہیں آتا ۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی علاقائی جماعت قائم کرتے ہوئے بی جے پی سے اتحاد کرلیا ہے لیکن یہ اتحاد پوری طرح بے اثر دکھائی دیتا ہے ۔ کانگریس کیلئے عام آدمی پارٹی ہی اصل چیلنج بنتی جا رہی ہے ۔ عوام کے د رمیان پہونچ کر جو وعدے کئے جا رہے ہیں وہ عوام کی توجہ حاصل کرنے میں موثر ثابت ہو رہے ہیں تاہم یہ وعدے پارٹی کو ووٹ دلا پائیں گے یا نہیں وہ تو نتائج ہی سے پتہ چلے گا ۔ کانگریس کا جہاں تک سوال ہے اس کیلئے حالانکہ صورتحال مشکل ضرور ہوگئی ہے لیکن نا ممکن اب بھی نہیں ہے ۔ کانگریس کیلئے ضروری ہے کہ تمام امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے تعلق سے بہت احتیاط سے فیصلے کئے جائیں۔ اس کے علاوہ عوام کی نبض کو سمجھتے ہوئے پوری شدت کے ساتھ مہم چلائی جائے ۔ حکومت کی اسکیمات اور پالیسیوں سے عوام کو واقف کروایا جائے ۔ انہیں مستقبل کے منصوبوں سے واقف کروایا جائے اور ریاست میں استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ داخلی اختلافات اور مخالفتوں پر خاص توجہ دیتے ہوئے جتنا ممکن ہوسکے جلدی انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ داخلی اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب ہونی مشکل ہوسکتی ہیں۔
کانگریس کی مرکزی قیادت کو اس معاملے میں سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کے درمیان تو ریاستی اور مقامی قائدین ہی پہونچیں گے لیکن مرکز سے کنٹرول کرتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا اور ریاستی قائدین کو اس پر عمل کرتے ہوئے عوام سے رجوع ہونے کی ہدایت دینا مرکزی قیادت کا ذمہ ہے ۔ داخلی اختلافات ختم کرتے ہوئے عوام کے سامنے تمامق ائدین کو متحد طور پر پیش کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا اور اس سے کانگریس کو گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ ٹال مٹول کی پالیسی اگر اختیار کی جاتی ہے تو اس کے پارٹی کے انتخابی امکانات پر کچھ حد ہی صحیح منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔