پنجاب میںآج ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جہاںعام آدمی پارٹی نے اپنی حکومت تشکیل دیدی۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے بھگونت مان نے حلف لیا اور عام آدمی پارٹی کی ملک کی دوسری ریاست میںحکومت بن گئی ہے ۔ سب سے پہلے پارٹی نے دہلی میںحکومت قائم کی تھی اور پنجاب وہ دوسری ریاست بن گئی ہے جہاں عام آدمی پارٹی کو عوام نے اقتدار سونپ دیا ہے ۔ دہلی میںاروند کیجریوال کی قیادت میںحکومت بنائی گئی تھی جو اپنی دوسری مکمل معیاد کی سمت رواں دواں ہے ۔ ایسے میںپنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بننا پارٹی کیلئے خوش آئند کہا جاسکتا ہے ۔حکومت بنانے تک کا سیاسی سفر کسی بھی جماعت کیلئے آسان نہیںہوتا خاص طور پر اس صورتحال میں جس میںکسی پارٹی میںسیاستدان کام اور جہد کار زیادہ ہوں۔ انسداد کرپشن مہم سے منظر عام پر آنے والے اروند کجریوال نے عام آدمی پارٹی تشکیل دیتے ہوئے دہلی میںسب سے پہلے اپنا اثر دکھایا تھا اور بتدریج یہ پارٹی اب چند ہی برسوںمیںپنجاب میںبھی اقتدار حاصل کرنے میںکامیاب ہوگئی ہے ۔ بھگونت مان نے آج بحیثیت چیف منسٹر پنجاب حلف لینے کے بعد جو تقریر کی وہ بھی ایک اچھی شروعات کہی جاسکتی ہے ۔ بھگونت مان نے جو کبھی ایک کامیڈین ہوا کرتے تھے کہا کہ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیںاور عوام میںاحساس پیدا کرنا چاہتے ہیںکہ ایک باشعور حکومت نے حلف لیا ہے ۔ یہ ایک بڑا جملہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ حکومتیں اب تک جو بھی ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں قائم ہوئی ہیںباشعور نہیںکہی جاسکتیں۔ حکومتیں سیاسی رسہ کشی میںمصروف ہوا کرتی ہیں۔ عوام کیلئے کام کرنا حکومتوںکا فریضہ اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کیا جاتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوںکو دبانے کچلنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے ۔ یہ روش آج ہندوستان میں بہت زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے ۔ ایسے میں ایک با شعور حکومت کا قیام ریاست اور عوام کیلئے خوش آئند ہی کہا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے ۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے پہلی تقریر نے اچھا تاثرہی پیش کیا ہے ۔
تاہم بات صرف تقریر تک محدود نہیںرہنی چاہئے ۔ پنجاب کے عوام کی زندگیوںمیں مثبت اور بہتر تبدیلی لانے کیلئے حکومت کو پہل کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ پنجاب میں جو چیف منسٹر بنے ہیں یا جو وزراء ہونگے ان کو حکومت کا اور انتظامیہ چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ ایسے میںیہ شروعات سست ہوسکتی ہے لیکن ریاست کے عوام کو قدرے تحمل سے کام لینے کی؎ ضرورت ہے ۔ بھگونت سنگھ مان کی حکومت کو ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔ حکمرانی کے دہلی ماڈل پر ہی اکتفاء نہیںکیا جاسکتا ۔ بھگونت مان نے کہا کہ دہلی میںدواخانوں اور اسکولس کی صورتحال کو یکسر بدل دیا گیا ہے ۔ یہی کام پنجاب میں بھی کیا جائیگا ۔ تاہم پنجاب میںصرف اسی پہلو پر اکتفاء بھی نہیںکیا جاسکتا ۔ پنجاب کی صورت کو بدلنے کیلئے وسیع النظری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ یہاں روزگار اور زراعت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوںکو ملازمتیںفراہم کرتے ہوئے انہیںخود کفیل بنایا جاسکتا ہے ۔ چونکہ پنجاب ملک کی بڑی زرعی ریاست ہے اس لئے زراعت کے شعبہ کو خاص توجہ کی ضرورت ہوگی ۔ یہ دو پہلو ایسے ہیں جن کا دہلی میںزیادہ اطلاق نہیںہوسکتا ۔دہلی ایک ریاست سے زیادہ کاسموپولیٹن شہر ہے ۔ ایک شہر کا انتظامیہ چلانے اور ایک پوری ریاست میں حکمرانی کیلئے مختلف طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ نئی صورتحال سے نمٹنے نئے طریقے اختیار کرنے سے بھی عام آدمی پارٹی کی حکومت کو گریز نہیںکرنا چاہئے بلکہ کھلے ذہن سے کام کرنا ہوگا ۔
دہلی میںمسائل مختلف تھے ۔ وہاںاروند کجریوال نے حالات کے اعتبار سے اپنی حکومت کا ایکشن پلان تیار کیا تھا۔ پنجاب میںصورتحال مختلف ہے ۔ وہاںکیلئے الگ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ ایک بڑا ایکشن پلان تیار کرنا ہوگا ۔ حالات پر کنٹرول کرنے کیلئے اچھی گرفت بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ اقتدار کے نشہ سے بچنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اقتدار کے نشہ نے ملک کی بڑی بڑی پارٹیوں کو حاشیہ پر لا کھڑا کردیا ہے ۔ اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ بھگونت مان نے اپنی پہلی تقریر سے اچھا تاثر دینے کی کوشش کی ہے اورانہیں پورے پانچ سال اس پر کھرا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
