چیف منسٹر کی رہائش کے گھیراؤ کی کوشش‘ پولیس سے تصادم ‘حکومت کیخلاف نعرے بازی
پٹنہ ۔15؍ستمبر( ایجنسیز)بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدواروں کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ بی ایس ایس سی، بی پی ایس ایس سی اور 70ویں بی پی ایس سی امتحان کی غیر جانبداری اور طریقۂ کار کو لیکر ہزاروں کی تعداد میں طلبا آج سڑکوں پر اتر آئے۔ گاندھی میدان سے وزیر اعلیٰ کی رہائش کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کے دوران مشتعل امیدواروں اور پولیس کے درمیان جے پی گولمبر کے پاس شدید تصادم بھی دیکھنے کو ملا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گاندھی میدان سے نعرے بازی کرتے ہوئے نکلے امیدواروں کے زبردست ہجوم کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے جے پی گولمبر پر بیریکیڈنگ لگا دی تھی لیکن طلبا کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ انھوں نے لوہے کے بیریکیڈس کو توڑ دیا اور اس کے اوپر چڑھ گئے جب امیدواروں نے بیریکیڈس کے بغل سے بھاگ کر آگے نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے طاقت کے زور پر انھیں روکا۔ اس کے بعد جائے وقوع پر حالات کشیدہ ہو گئے اور طلبا و پولیس کے درمیان زبردست نوک جھونک بھی ہوئی۔ان مشتعل مظاہرین کا الزام ہے کہ 70ویں بی پی ایس سی امتحان اور 1799 عہدوں والی داروغہ بحالی کے طریقۂ کار میں بے ضابطگی ہوئی ہے اس لیے انھیں فوراً رد کیا جائے۔ طلبا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بی ایس ایس سی کیزیر التوا امتحانات کو بغیر کسی تاخیر کے جلد از جلد منعقد کیا جائے۔ بھرتی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ طلبا نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔طلبا کے اس مظاہرہ پر کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا طلبا کا حق ہے، جسے کسی بھی قیمت پر روندا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کو طلبا پر لاٹھیاں چلانے کی جگہ ان سے بات کرنی چاہیے، معاملے کی جانچ کرانی چاہیے۔