حیدرآباد۔/22 مارچ، ( سیاست نیوز) ’جنتا کرفیو‘ کے پیش نظر شہر حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر اور ٹریفک پولیس عملے نے سرگرم رول ادا کرتے ہوئے اپنے مکانات سے باہر نکلنے والے افراد کودوستانہ انداز میں پیش آتے ہوئے اپنے مقامات کو لوٹ جانے کی اپیل کی۔ بعض مقامات پر پولیس نے ہلکی سی سزا بھی دی۔ آج صبح 6 بجے سے ’جنتا کرفیو‘ کا آغاز ہوا، اور سڑکوں پر بعض نوجوان گھومتے ہوئے نظر آئے جنہیں پولیس نے فوری روک لیا۔ فیملی کے ساتھ جانے والے افراد کو پولیس نے دوستانہ انداز میں ہاتھ جوڑ کر سڑکوں پر نہ آنے کی التجاء کی جبکہ نوجوانوں سے سختی سے پیش آتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں کورونا وائرس سے متعلق شعور بیداری پر تحریرکردہ پلے کارڈز تھمادیئے اور کچھ دیر تک انہیں سڑک پر ٹھہرنے کیلئے مجبور کردیا۔ اسی طرح پرانے شہر میں نوجوان تاریخی چارمینار اور مکہ مسجد کے قریب ٹریپل رائیڈنگ کرتے ہوئے نظر آئے جنہیں ٹریفک پولیس نے روک کر ان کی گاڑیاں ضبط کرلی اور ان کے والدین کو طلب کرتے ہوئے بعد کونسلنگ رہا کردیا۔ پولیس کی جانب سے ’جنتا کرفیو‘ پر عمل آوری کیلئے پولیس پٹرولنگ گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی نظر آئیں اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کرتے ہوئے عوام کو اپنے مکانات سے باہر نہ آنے کا مشورہ دیا۔رضاکارانہ کرفیوں میں عوام نے تعاون کیا ۔ جنتا کرفیو‘ کے دوران شہر کی سڑکیں سنسان تھیں۔ شب معراج کے باوجود عوام نے اپنے گھروں میں عبادت کا اہتمام کیا۔
