چالانات کی فکر میں شرابیوں کو چھوٹ ، حادثات میں اضافہ کا باعث
حیدرآباد ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر و نواحی علاقوں میں پیش آئے سڑک حادثات اور اموات پولیس کی چوکسی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں ۔ ان حادثات پر شہریوں میں کافی برہمی پائی جاتی ہے چونکہ خود احتیاط کرنے پر بھی شرابی ڈرائیورس سے جانوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس صرف چالانات پر توجہ دیتی ہے ۔ عوام کا تاثر ہے کہ پولیس والے کیمرہ مین بن گئے اور نتیجتاً حادثات میں اضافہ اور چالانات کی فکر میں شرابیوں کو چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ عوام کے الزامات و تاثرات اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ ایک ہفتہ میں 5 افراد شرابی ڈرائیورس کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے ۔ بنجارہ ہلز علاقہ میں ہارش گاڑی کی ٹکر سے دو افراد کی ہلاکتوں کا واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ کل ڈنڈیگل حدود میں تین افراد اور سابق میں نارسنگی حدود میں 4 افراد کی ہلاکت نے شہریوں میں خوف پیدا کردیا ہے ۔ اس کے برخلاف پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثات پر قابو پانے میں موثر اقدامات کررہی ہے باوجود ایسے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے ہر ماہ شرابیوں کے خلاف کارروائی میں کئی افراد کو جیل منتقل کیا جارہا ہے ۔ بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں اور قوانین پر سختی سے عمل آوری جاری ہے باوجود اس کے شرابی اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں ۔ خود اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ دیگر شہریوں کے لیے بھی خوف و ہراسانی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ پولیس پر الزام ہے کہ تمام تر توجہ چالانات اور ٹکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کررہا ہے جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کے لیے بھی آر ٹی اے کو سفارشات روانہ کی جارہی ہیں تاکہ شہر میں شرابیوں پر لگام لگائی جاسکے ۔ رچہ کنڈہ ، سائبر آباد اور حیدرآباد میں 350 بڑے ٹریفک جنکشن پائے جاتے ہیں ۔ جہاں موثر تعداد میں پولیس ملازمین کی تعیناتی ضروری ہے لیکن اس جانب توجہ مرکوز کرنے میں پولیس کے اعلیٰ حکام قاصر ہیں اور ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی کو آسان بنانے کی فکر میں مگن ہیں ۔ دوسری طرف چالانات کے ٹارگیٹ میں مصروف سڑکوں پر تعینات عملہ بے لگام ٹریفک کو قابو میں رکھنے اور راحت فراہم کرنے کے اقدامات انجام نہیں دیتا بلکہ اپنے چالانات کے ٹارگیٹ کو پورا کرنے میں مصروف رہتا ہے ۔ جس کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو پولیس کو اپنی ڈیوٹی پر کیمرہ سنبھالنے اور کیمرے سے تصویر کشی کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ حادثات کے تدارک اور اموات میں کمی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کریں اور شہریوں کو راحت فراہم کریں ۔۔ ع