وارسا۔ پولینڈ میں نازیوں کے کنسنٹریشن کیمپ کے باہر دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں ہیں جن میں کم از کم 8 ہزار افراد کی 19 ٹن راکھ موجود ہے۔ یہ اندازہ باقیات کے وزن پر مبنی ہے جس کے حساب سے تقریباً ایک جسم کی راکھ دو کلو گرام کے برابر ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ متاثرین کو قتل کر کے دفن کیا گیا لیکن بعد میں نازی پارٹی کے ممبران نے ان ہلاکتوں کو چھپانے کے لیے لاشیں کھود کر نکالیں اور جلادیں۔ جس جگہ پر قبریں کھودی گئیں وہاں اب ایک قطبہ لگا ہے جس پر پولِش زبان میں لِکھا ہے کہ نامعلوم شہداء جو پولِش ہونے کی وجہ سے مارے گئے اور ساتھ میں سال 1939 سے 1944 لکھا ہے۔پولش حکام نے چہارشنبہ کے روز مقبرے کی رونمائی کی جس کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کیے جانے والے جنگی جرائم کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پولینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل ریمیمبرنس کے صدر کیرل ناوروکی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ 1939 میں تقریباً 8000 افراد کو کیمپ کے باہر لایا گیا اور سر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔