پہلی بار کسی بڑے امریکی شہر میں پانچ بار اذان دینے کی اجازت

,

   

منیا پولس : امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس مساجد میں 5 وقت اذان والا امریکا کا پہلا شہر بن گیا۔ میئرجیکب فرے نے اذان دینے سے متعلق آرڈیننس پر دستخط بھی کئے۔اس سے قبل سال کے مخصوص اوقات میں صبح اور شام کی اذانوں پرپابندی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے اس اجازت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔شہر منیا پولس کی انتظامیہ نے ’بے ہنگم آواز آرڈیننس‘ میں تبدیلی کرتے ہوئے پہلی بار مسلمانوں کو پانچ بار باآواز اذان دینے کی اجازت دے دی۔اس سے قبل اسی شہر میں مسلمانوں کو فجر اور عشا کی اذان کے علاوہ تمام اذانیں لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی اجازت حاصل تھی جب کہ بعض مرتبہ مسلمانوں کو رمضان المبارک میں پانچ بار اذان دینے کی اجازت دی جاتی تھی۔منیا پولیس سمیت متعدد امریکی شہروں میں نام نہاد ’بے ہنگم آواز آرڈیننس‘ نافذ ہے، جس کے تحت کوئی بھی شام سے لے کر صبح تک زیادہ شور شرابا نہیں کر سکتا۔
چاہے وہ اپنے مذہبی عقیدے کے لیے ہی آواز کیوں نہ کر رہا ہو۔لیکن اب منیا پولیس شہر کی حکومت نے ’بے ہنگم آواز آرڈیننس‘ کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو پورا سال پانچوں وقت کی اذان لاو?ڈ اسپیکر پر دینے کی اجازت دے دی۔

مذکورہ قانون میں تبدیلی کے بعد منیا پولس امریکا کا وہ پہلا بڑا شہر بن گیا، جہاں مسلمانوں کو پانچوں وقت لاؤڈ اسپیکر میں اذان دینے کی اجازت ہوگی۔