پی ایل سرینواس ٹی آر ایس کے سینئر قائد کا پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان

   

میدی گڈہ بیاریج اور کالیشورم پراجکٹ میں دھاندلیوں کی تحقیقات کروانے پر زور
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) سینیئر قائد بھارت راشٹرسمیتی مسٹر پی ایل سرینواس نے آج پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو ہوئی شکست کو پارٹی سینیئر قائدین خود تسلیم نہیں کر پا رہے ہیں اور اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے لئے عوام کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ بے بنیاد ہے۔ مسٹر پی ایل سرینواس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بھارت راشٹر سمیتی کو شکست کی بنیادی وجہ میدی گڈہ بیاریج اور کالیشور م پراجکٹ میں ہونے والی دھاندلیاں ہیں اور ان دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات سے عین قبل میدی گڈہ پراجکٹ میں دراڑ کی اطلاعات نے عوام کو بی آر ایس کے خلاف کردیا کیونکہ کالیشورم پراجکٹ کے سلسلہ میں کروڑہا روپئے کے اخراجات پر یہ باور کروایا جارہا تھا کہ حکومت کی جانب سے عالمی طرز کے اس پراجکٹ کو بی آر ایس حکومت نے یقینی بنایا ہے لیکن حکومت کی کارکردگی کی قلعی عین انتخابات سے قبل کھل گئی ۔ پی ایل سرینواس نے اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق کچھ نہیں کہا اور ان سے استفسار پر کہا کہ وہ بی آر ایس میں اب مزید نہیں رہ سکتے کیونکہ عوام نے بی آر ایس کو مسترد کیا ہے اور پارٹی اعلیٰ قائدین عوام کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کے بجائے عوام کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے یہ کہہ رہی ہے کہ ریاست میں بی آر ایس کی بہتر کارکردگی کے باوجود عوام نے پارٹی کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو سیاسی جماعت عوام کے فیصلہ کا احترام نہیں کرتی اس کے ساتھ وہ برقرار نہیں رہ سکتے اسی لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی آر ایس حکومت کے دوران تیار کئے گئے پراجکٹس کی جامع تحقیقات کروائی جانی چاہئے کیونکہ بھارت راشٹرسمیتی پر عائد کئے گئے الزامات اب درست ثابت ہونے لگے ہیں اور ان الزامات کی جانچ کے ذریعہ بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے اسی لئے موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعہ کالیشورم پراجکٹ کے علاوہ دیگر پراجکٹس میں ہونے والی دھاندلیوں کو منظر عام پر لانے کے علاوہ ان لوگوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں جنہوں نے ریاست کی دولت کو تباہ کرتے ہوئے ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں میں ملوث رہے اور اقتدار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دولت اکٹھا کی۔3