تلنگانہ میں نویں تا بارہویں جماعت تعلیم حاصل کرنے والے مقامی شمار ہوں گے، حکومت کا استدلال، 4 اپریل کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔/11 فروری، ( سیاست نیوز) پی جی میڈیکل نشستوں میں مقامی امیدواروں کے کوٹہ کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے پٹیشن دائر کی ہے۔ جسٹس بی آر گوائی کی زیر قیادت بنچ نے تلنگانہ حکومت کی درخواست کی مکمل سماعت سے اتفاق کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اپنی درخواست میں پی جی میڈیکل نشستوں میں مقامی امیدواروں کیلئے کوٹہ الاٹمنٹ پر حال ہی میں جسٹس سدھانشو بھولیہ کی زیر قیادت تین رکنی بنچ کے فیصلہ سے واقف کرایا۔ تلنگانہ حکومت نے درخواست کی کہ تین رکنی بنچ کے فیصلہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی درخواست وسیع تر بنچ سے رجوع کی جائے گی۔ جسٹس بی آر گوائی نے کہا کہ وسیع بنچ سے معاملہ کو رجوع کرنے سے قبل وہ اس معاملہ کی مکمل سماعت کریں گے۔ انہوں نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 4 اپریل کو مقرر کی ہے۔ دفعہ 371(D) کے مطابق آندھرا پردیش میں ایم بی بی ایس کی تکمیل کرنے والے طلبہ کو مقامی کوٹہ کے تحت پی جی نشستوں میں داخلہ دیئے جانے کی درخواست کے ساتھ تقریباً 100 امیدوار تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں پی جی میڈیکل نشستوں میں مقامی کوٹہ پر عمل آوری کی ہدایت دی اور آندھرا پردیش کے امیدواروں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد دفعہ 371(D) پر عمل آوری محض دس برسوں کیلئے محدود تھی۔ اس بارے میں تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کو واقف کرایا۔ تلنگانہ میں نویں تا بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ مقامی کوٹہ کے تحت شمار کئے جائیں گے۔ حکومت نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ہی مقامی کوٹہ کے تحت پی جی نشستوں میں داخلہ کے اہل ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ دفعہ 371(D) کے تحت رائلسیما اور آندھرا ریجن میں ایم بی بی ایس تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ تلنگانہ میں پی جی میڈیکل نشستوں میں مقامی کوٹہ کے تحت داخلہ کے اہل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 371(D) متحدہ آندھرا پردیش میں نافذ تھا اور اس میں ترمیم کئے جانے تک پی جی میڈیکل نشستوں میں آندھرا پردیش کے طلبہ کو مقامی کوٹہ کے تحت داخلہ دیا جائے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے تحت تقریباً 200 طلبہ تلنگانہ کی پی جی نشستوں میں داخلہ کے اہل قرار پاتے ہیں۔ ان حالات میں تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔1