واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی شہریت کے حصول میں پیدا کردہ حالیہ اس روک کو پیر کے روز تیسرے وفاقی جج نے ختم کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ حکم ان کی امیگریشن سے متعلق پالیسی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔کیونکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ حکم نامہ ان لوگوں کے بچوں کی پیدائشی شہریت کا حق ختم کرنے کیلئے جاری کیا گیا تھا جو خود تو غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں لیکن ان کے بچوں کی امریکہ میں پیدائش کی صورت بچوں کو امریکی شہریت مل جاتی تھی۔ اس پر امریکہ میں کئی شعبوں کی طرف سے شور اٹھا ہے۔تاہم پیر کے روز نیو ہیمپشائر میں ایک امریکی ڈسٹرکٹ جج جوزف این لاپلانٹے کی جانب سے اس صدارتی حکم کو روک دینے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے سیئٹل اور میری لینڈ کے ججوں کے دو ایسے ہی فیصلوں کے بعد آیا ہے۔’امریکن سول لبرٹیز یونین’ نامی تنظیم کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے ‘ ایک مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا حکم آئین کے خلاف ہے۔ نیز یہ امریکہ کو امریکی بنیادی آئینی اقدار سے توڑ دینے کی کوشش ہے۔’واضح رہے ٹرمپ انتطامیہ زور دے کر کہہ چکی ہے کہ غیرملکی شہریوں کے کے بچے امریکہ کی شہریت کے حصول کے دائرہ کے اندر نہیں ہیں اور اس لیے وہ شہریت کے حقدار نہیں ہیں۔ لیکن نیو ہیمپشائر کے جج نے اس حکم کو ختم کر دیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایگزیکٹو آرڈر سے متعلق اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔خیال رہے غیر ملکی کی اولاد کو امریکہ میں پیدا ہونے کی وجہ سے شہریت امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم کی وجہ سے ملتی ہے جس کا اطلاق 1868 سے چلا آرہا ہے۔ جب امریکہ میں ایک بڑی خانہ جنگی کے بعد یہ ترمیم آئی تھی۔امریکہ دنیا کے ان 30 ملکوں میں سے ایک ہے جن میں پیدائشی بنیاد پر شہریت کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ حق عام طور پر میکسیکو ، کینیڈا اور اسرائیلیوں کے بچوں کو ملتا رہا ہے۔