تجارتی اغراض کیلئے مختلف اقسام کی چائے متعارف، سالانہ پیداوار میں اضافہ کا رجحان
حیدرآباد ۔ یکم ستمبر (سیاست نیوز) زندگی کے معاملات میں غذاؤں کے ساتھ ساتھ چائے نے لازمی ضرورت کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ دفاتر، مکانات، تجارتی اداروں کے علاوہ سیاحتی اور بازار میں چائے نوشی کے رجحان میں دن بہ دن اضافہ ہوا ہے۔ چائے کے شائقین کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہورہا ہے، تجارتی اغراض کے لئے مختلف اقسام کی چائے کو وقفہ وقفہ سے متعارف کرتے ہوئے بھاری آمدنی حاصل کی جارہی ہے۔ چائے کی تیاری میں جن اجزا کا استعمال کیا جاتا ہے اُن میں چینی کے ساتھ پتی ایک لازمی جزء ہے۔ ہندوستان کی 6 ایسی ریاستیں ہیں جنھیں ملک کے سرکردہ ٹی پروڈیوسرس کا درجہ حاصل ہے۔ آسام نے ہمیشہ کی طرح چائے کی پیداوار میں اپنی سبقت کو برقرار رکھا ہے۔ چائے کی پیداوار کے سلسلہ میں جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق آسام میں ہر سال 0.665 ملین ٹن پیداوار ریکارڈ کی جاتی ہے۔ مغربی بنگال 0.415 ملین ٹن پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ٹاملناڈو میں چائے کی سالانہ پیداوار 0.17 ملین ریکارڈ کی گئی جبکہ چائے کی پیداوار میں کیرالا کی حصہ داری 0.06 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی ہے۔ تریپورہ، کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں بھی چائے کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان کی ٹی انڈسٹری پر شمال مشرقی اور جنوبی ریاستوں کا غلبہ ہے۔ طبی اعتبار سے ڈاکٹرس چائے کے کثرت سے استعمال کو بھلے ہی نقصان دہ قرار دیں لیکن مارکٹ میں جتنی اقسام کی چائے متعارف ہوچکی ہے، وہ استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہی کررہی ہے۔ مریض شوگر اور دودھ کے بغیر بھی چائے کا استعمال کرتے ہوئے اپنی روز مرہ کی عادات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔V/1/k/b