مجھ کو معلوم ہے کیا اس کا نتیجہ ہوگا
دُور تک جائے گا پھینکا ہوا پتھر میرا
چار ملکوں کا اتحاد
ایشیاء میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے سب سے زیادہ امریکہ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ چین کا سرحدی تنازعہ بھی اس خطہ کا دیرینہ مسئلہ ہے ۔ چین کو یکا و تنہا کرنے کے لیے حال ہی میں ہندوستان ، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا نے اپنی پہلی چوٹی کانفرنس منعقد کی ۔ صدر امریکہ جو بائیڈن نے وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا و جاپان کے قائدین کے ساتھ ورچوئل ملاقات کی تو اس ملاقات کو اہمیت دی گئی ۔ چوٹی کانفرنس میں تمام چار ملکوں نے ایشیائی خطہ اور دنیا بھر کی صورتحال پر غور کیا ۔ چار ممالک کے اس اتحاد کو کواڈ کہا جاتا ہے ۔ اس کواڈ QUAD کو بحر ہند اور بحر الکاہل میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور تجارت میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے لیکن یہ غیر رسمی اتحاد کب تک برقرار رہے گا، یہ امریکہ کے موقف پر منحصر ہے کیوں کہ صدر امریکہ جوبائیڈن ہی اس اتحاد کے اصل محرک ہیں ۔ وائیٹ ہاوز میں اپنے 100 دن پورے کرنے کے دوران جوبائیڈن کی یہ دوسری سب سے اعلیٰ خارجہ پالیسی کے لیے اٹھایا گیا قدم ہے ۔ اس پر وزیراعظم ہند نریندر مودی نے بائیڈن سے اظہار تشکر بھی کیا ۔ چین کا مقابلہ کرنے کی فکر اس وقت سب سے زیادہ صدر امریکہ کو ہے ۔ اس لیے انہوں نے 19 فروری کو بھی مونخ نیلوائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی ، فرانس اور برطانیہ جیسے یوروپی حلیف ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم چین کے تعلق سے یوروپی یونین کا موقف قدرے نرم ہے ۔ اس لیے یوروپ نے چین کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے سے گریز کیا ۔ البتہ جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا نے امریکی صدر بائیڈن کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے اپنا چار ملکی گروپ یا اتحاد بنایا ۔ بائیڈن کا اگلا قدم کواڈ کے ذریعہ چین پر شکنجہ کسنا ہے لیکن وہ فی الحال اپنے پیشرو ٹرمپ کی طرح جارحیت کا مظاہرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ جمعہ کے دن منعقدہ کواڈ کا پہلا ورچول اجلاس اس لیے بھی اہم تھا کیوں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایجنڈہ کے مطابق ویکسین ، موسمیاتی تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی جیسے امور پر توجہ دی ۔ چار ملکوں کے سربراہوں نے آپس میں وسائل جمع کرنے ، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بحرالکاہل کے خطے میں کورونا ویکسین کی تیاری اور تقسیم میں تعاون پر اتفاق کیا ۔ اس گروپ نے براعظم کو آزاد اور سب کے لیے قابل دسترس رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ۔ اس اتحاد کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ اس خطے کی بات کرتے ہیں تو یہاں کا نظم و نسق بین الاقوامی قوانین کے مطابق چلانے پر توجہ دی جائے اور عالمی اقدار کو ملحوظ رکھ کر آگے بڑھیں ۔ جب تک کسی بھی خطہ کو استبداد سے آزاد نہیں رکھا جائے گا ، کسی بھی گروپ کو کامیابی نہیں ملے گی ۔ اس میں شک نہیں کہ ہند ۔ جاپان ۔ امریکہ اور آسٹریلیا کا یہ کواڈ اتحاد نئی شروعات کا بہترین ثبوت ہے لیکن جہاں تک چین کے خلاف سخت اور واضح موقف اختیار کرنا ہے ، اس کوشش پر قائم رہا جائے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی ۔ دراصل چین نے اس خطے کی قانونی حیثیت بدلنے کی کوشش کی ہے تو اس کے خلاف اُٹھنا بھی ضروری تھا ۔ ان چار ممالک کے موقف کی اگرچیکہ دیگر ملکوں نے بھی حمایت کی ہے لیکن کورونا ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا ۔ ان ملکوں نے کورونا ویکسین کی ایک ارب خوراکیں فراہم کرنے کا عزم کیا ہے تو امید کی جاتی ہے کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے ان کی کوشش کامیاب ہوگی ۔ اگر جاپان ، امریکہ اور آسٹریلیا نے تعاون کیا تو ہندوستان میں ویکسین کی تیاری میں مزید اضافہ ہوگا ۔ ہندوستان پہلے ہی 60 فیصد ویکسین سربراہ کررہا ہے ۔ اس اتحادی اقدام سے مزید تیاری کی گنجائش پیدا ہوگی جس کے بعد ویکسین کے معاملہ میں گروپ کے کسی بھی ملک کو چین پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا ۔ تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود چین کے موجودہ موقف کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ملک فوری طور پر تصادم کی راہ اختیار نہیں کرسکتا ۔ بہتر یہی ہے کہ گروپ ممالک کو باہمی ترقی ، عزم اور ڈپلومیسی پر توجہ دیتے ہوئے کواڈ کو آگے لے جانا چاہئے ۔ ایشیائی ممالک بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ امریکہ اور چین کے درمیان طاقت آزمائی کا موقع پیدا ہوجائے ۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ ہندوستان اور چین اس خطہ کے دو بڑے طاقتور ممالک ہیں ۔ اس لیے کسی کو بھی ٹکراؤ کی سطح تک پہونچنے سے گریز کرنا ضروری ہے ۔ معقول بات یہی ہے کہ کواڈ QUAD گروپ اپنے اس اتحاد کو مضبوط بنانے کی فکر کرے۔۔