سیاح لاڈبازار جانے سے قاصر ، تاجرین کو شدید نقصان ، بازار کی رونق ماند پڑ گئی
حیدرآباد۔24۔نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے تاریخی چارمینار کے دامن میں پیدل راہرو پراجکٹ کو خوبصورت بنانے اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے سلسلہ میں متعدد اعلانات کئے جاتے رہے ہیںلیکن ان اعلانات پر عمل آوری کے معاملہ میں محکمہ بلدی نظم ونسق کی لاپرواہی اور بے اعتنائی سے مقامی تاجرین انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ چارمینار کی سیاحت کے لئے پہنچنے والے سیاحوں کو لاڈ بازار میں داخل ہونے کے لئے ہونے والی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور ان مشکلات کو دور کرنے کے سلسلہ میں کی جانے والی نمائندگیاں بے سود ثابت ہونے لگی ہیں کیونکہ محکمہ بلدی نظم و نسق و محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے لاڈ بازار میں داخلہ کی سمت کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے سبب سیاح لاڈ بازار میں داخل نہیں ہوپا رہے ہیں جس کی وجہ سے لاڈ بازار کے تاجرین کے کاروبار بری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں۔ لاڈ بازار کے دوسری جانب محبوب چوک سے لاڈ بازار میں داخل ہونے والے راستہ پر موجود رکاوٹوں کی وجہ سے گاہک اس راستہ کا بھی بہ آسانی استعمال کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اس راستہ پر ہمہ وقت آٹو اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کا قبضہ ہوتا ہے جو کہ شہریوں کی بہ آسانی آمد و رفت میں خلل پیدا کررہا ہے۔ لاڈ بازار کے تاجرین کی جانب سے محکمہ پولیس ‘ بلدی نظم ونسق ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ آثار قدیمہ سے متعدد مرتبہ ترقیاتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل اور چارمینار کی سمت سے لاڈ بازار کی سمت داخلہ پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں نمائندگیاں کی گئی ہیں لیکن اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں جارہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ لاڈ بازار کو ترقی دینے کے لئے جلد ہی خوبصورت کمانوں کی تعمیر کے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ لاڈ بازار کے تاجرین کا کہناہے کہ لاڈ بازار کی خوبصورتی لاڈ بازار میں دستیاب اشیاء کی فروخت سے ہے اور لاڈ بازار جانا جاتا ہے اسی لئے لیکن اب جبکہ دو طرف سے بھی بازار میں داخلہ پر رکاوٹیں موجود ہیں توایسی صورت میں لاڈ بازار کی خوبصورتی کہاں برقرار رہ پائے گی ! تاجرین نے محکمہ بلدی نظم ونسق کے علاوہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے خواہش کی ہے کہ وہ فوری طور پر بازار کے دونوں جانب موجود رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے سیاحوں اور گاہکوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ لاڈ بازار کے تاجرین کو ہونے والی مشکلات سے نجات حاصل ہوسکے۔ تاجرین کا کہناہے کہ پیدل راہرو پراجکٹ کے آغاز کے بعد سے اگر چارمینار کے اطراف تجارتی اعتبار سے کوئی بری طرح سے متاثر ہے تو وہ لاڈ بازار کے تاجرین ہیں جنہیں کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اب لا ڈ بازار کے تاجرین اس تاریخی بازار میں جہاں ہمیشہ شہر حیدرآباد‘ اضلاع‘ ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرونی سیاح موجود ہوا کرتے تھے ان رکاوٹوں کے سبب بازار میں داخل نہیں ہوپارہے ہیں اور بازار کے تاجرین کے کاروبار متاثر ہونے کے علاوہ بازارکی رونق ماند پڑنے لگی ہے جو تاریخی بازار کی اہمیت کو ختم کرنے کا سبب بننے لگی ہے۔م