حیدرآباد۔16 اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے چریان پیالس انہدامی کاروائی کو فوری روکتے ہوئے مزید کسی کارروائی کیلئے چیف سیکریٹری کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چریان پیالس کے غیر قانونی انہدام کے سلسلہ میںداخل کی گئی درخواست میں کہاگیا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ اور ریاستی حکومت چریان پیالس کے انہدام پر کی جانے والی شکایات پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے۔ عدالت نے گذشتہ دنوں پیالس کے انہدام پر روک لگاتے ہوئے حکم التواء جاری کیا تھا اور16اپریل کو سماعت مقرر کی گئی تھی ۔ جسٹس شرون کمار نے آج سماعت کے دوران حکومت تلنگانہ کوہدایت دی کہ اندرون 2ہفتہ چریان پیالس کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف سیکریٹری کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دے اور تحفظ کیلئے درخواست دائر کرنے والے فریقین کے وکلاء سید علی جعفری اور میر حسن باقری دونوں کو نمائندگی فراہم کی جائے ۔ جسٹس شرون کمار نے چریان پیالس کے انہدام پر فوری اثر کیساتھ روک لگانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جو اقدامات کئے جانے چاہئے تھے انہیں اختیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس تہذیبی ورثہ کو منہدم کرنے سے قبل فریق نے ریاست کے کسی متعلقہ محکمہ سے کوئی اجازت حاصل کی۔ انہدامی کاروائی کے خلاف پیروی کر رہے جناب سید علی جعفری نے بتایا کہ اس تاریخی عمارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عدالت میں حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں موجود تاریخی و تہذیبی عمارتوں سے متعلق جی او عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے سابق میں ایرم منزل کے سلسلہ میں دیئے گئے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے چریان پیالس کو محفوظ بنانے کے اقدامات کی ہدایت دی ہے۔3