چندرشیکھر راؤ کیساتھ رہنے والے قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے کی حکمت

   

تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے کے باوجود نظرانداز کرنے سے ناراض قائدین کو لالچ کی پیشکش
حیدرآباد۔31جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ریاستی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ٹی آر ایس کے قیام سے کے چندر شیکھر راؤ کے ساتھ رہنے والے ان قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کی حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی ہے جو گذشتہ 22 برسوں کے دوران مسلسل نظرانداز کئے جاتے رہے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی میں تحریک تلنگانہ اور تشکیل تلنگانہ میں اہم کردار ادا کرنے والے قائدین کو نظرانداز کئے جانے کی شکایات کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے دور کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان قائدین سے رابطہ کرنا شروع کردیا ہے جو تلنگانہ راشٹر سمیتی کے قیام کے وقت ٹی آر ایس میں موجود تھے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد جنہیں نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان قائدین سے رابطہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت میں شامل ایسے افراد جو تحریک تلنگانہ اور تشکیل تلنگانہ کے مخالف تھے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف مہم شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ان قائدین کو قریب کیا جاسکے جو تشکیل تلنگانہ کے بعد سے مسلسل نظرانداز کئے جاتے رہے ہیں۔ راجیا یادو جو تلنگانہ راشٹرسمیتی کے قیام سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی رفیق رہے ہیںاور تحریک تلنگانہ کے دوران کے سی آر کے ساتھ جیل بھی جاچکے ہیں وہ اب تلنگانہ راشٹر سمیتی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ راجیا یادو کے ٹی آر ایس سے مستعفی ہونے کے بعد کہا جا رہاہے کہ وہ بی جے پی سے رابطہ میں ہیں اور جلد بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں موجود بیشتر قائدین ایسے ہیں جو تحریک تلنگانہ کے دوران مخالف تلنگانہ رہے ہیں اور اب تلنگانہ راشٹرسمیتی کے دور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی ان قائدین سے ناراض تلنگانہ حامیوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد مخالف تلنگانہ قائدین کی حوصلہ افزائی اور انہیں عہدے دیئے جانے سے ناراض پارٹی قائدین کو کوئی پلیٹ فارم حاصل نہیں ہورہا تھا لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی انہیں مستحکم سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں میں موجود قائدین کو پارٹی میں شامل کروانے کی ذمہ دار کمیٹی کے نگران قائدین نے اس منصوبہ کو قطعیت دیتے ہوئے ان تمام قائدین بشمول ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل سے بھی رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس زمرہ میں شامل ہیں۔م