چکون گنیا سے دہشت جاریہ موسم میں وبائی مرض سوائن فلو کا سنگین خطرہ

   

Ferty9 Clinic

سدی پیٹ میں چکون گنیا کے واقعات کے بعد عوام میں دہشت، عوام کو احتیاط برتنے ڈاکٹرس کا مشورہ

حیدرآباد۔4ستمبر(سیاست نیوز)شہر حیدرآباد ہی نہیں ریاست کے بیشتر اضلاع وبائی امراض کی لپیٹ میں ہیں اور عہدیداروں کوخدشہ ہے کہ جاریہ موسم کے دوران سوائن فلو کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے وبائی امراض کو نظرانداز کیاجا رہا ہے لیکن سدی پیٹ میں چکون گنیا کے واقعات نے عوام میں دہشت پیدا کررکھی ہے ۔ ریاست کے بیشتر خانگی دواخانو ںمیں وبائی امراض میں مبتلاء مریض زیر علاج ہیں اور ان کو سرکاری سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات نہ کئے جانے کے سبب عہدیدارو ںمیں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے اور عہدیدار خدشہ ظاہر کرنے لگے ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو سوائن فلو کی وباء تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ماہرین طب کا کہناہے کہ درجہ حرارت میں کمی اور سورج کی تمازت میں اضافہ نہ ہونے کے سبب نمی میں جو بائیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں وہ وبائی امراض کے پھیلنے کا سبب بنتے ہیں اور ڈینگو کا مچھر چکون گنیا کے پھیلنے کا بھی سبب بننے لگتا ہے اسی لئے عوام کو احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ مچھروں کی افزائش پانی کے جمع ہونے سے ہوتی ہے اور گندگی کے سبب وبائی امراض تیزی سے فروغ پانے لگتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو مختلف گوشوں سے ناکافی قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے نہ صرف سرکاری بلکہ خانگی دواخانو ںمیں بھی ڈینگو‘ چکون گنیا اور سوائن فلو کے مفت علاج کی سہولت کی فراہمی کا فیصلہ کرتے ہوئے احکام جاری کئے جانے چاہئے ۔ سدی پیٹ میں چکون گنیا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے مقامی ڈاکٹرس کی جانب سے ان مریضوں کو شہر حیدرآباد کے ماہرین سے رجوع کیا جا رہاہے اور ان مریضوں کا علاج بھی شہر کے مختلف دواخانو ںمیں جاری ہے۔ شہر حیدرآباد میں موسم میں پائی جانے والی نمی کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ سابق میں سوائن فلو کی وباء اسی طرح کے موسم کے دوران پھیلی تھی جس کے سبب شہر حیدرآباد کے بیشتر دواخانوں میں سوائن فلو کے علاج کی سہولت کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ عہدیداروں اور ماہر اطباء کی جانب سے ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کو ریاست میں صحت عامہ کی صورتحال سے واقف کروایا جاچکا ہے لیکن حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ یہ حالات ہر موسم باراں کے دوران پیدا ہوتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان حالات سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔