بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کا سنسنی خیز الزام ، تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 21 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ سابق ریاستی وزیر کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر 8888 کروڑ روپئے کے اسکام میں ملوث ہونے کا سنسنی خیز الزام عائد کیا ۔ اس اسکینڈل کی تحقیقات کی جاتی ہے تو اے ریونت ریڈی چیف منسٹر کے عہدے سے محروم ہوجائیں گے ۔ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے بہنوئی ایس سروجن ریڈی کی اہلیت نہ رکھنے والی کمپنی کو ہزاروں کروڑ روپئے کے کام سونپ دینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین ہیوم پائپ نامی کمپنی کو فون کر کے طلب کرتے ہوئے دھمکی دینے کے بعد اس کوٹنڈر حوالے کردیا گیا ہے ۔ اگرچہ کے نام انڈین ہیوم پائپ کمپنی کا ہے لیکن یہ ٹنڈر حقیقت میں چیف منسٹر کے بہنوئی کو دیا گیا ہے ۔ جس کمپنی نے ٹنڈر حاصل کیا ہے اس کمپنی کے ساتھ چیف منسٹر کے بہنوئی کا جوائنٹ وینچر ہے ۔ 1137 کروڑ روپئے کا کنٹراکٹ حاصل کرنے والی کمپنی بعد میں اس کمپنی کے لیے صرف 20 فیصد کام کرتی ہے ۔ چیف منسٹر کے بہنوئی 80 فیصد کام کرتے ہیں یعنی 1000 کروڑ روپئے کا اقتدار حاصل کرنے کے اندرون تین ماہ میں چیف منسٹر نے بہت بڑا گھوٹالہ کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ وہ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ اُس میں چیف منسٹر نے یہ اسکام کیا ہے ۔ امرت ٹنڈرس کی بدعنوانیوں کو کے ٹی آر نے ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایچ پی نامی کمپنی نے اس سلسلے میں SEBI کو مطلع کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کو آفس آف پرافٹ ایکٹ ، پریونیشن آف کرپشن ایکٹ 11-7 اور 13 کے تحت تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ نا صرف ریونت ریڈی چیف منسٹر کے عہدے سے محروم ہوں گے بلکہ خاندانی افراد کو فائدہ پہونچانے اور جانبداری کے معاملے میں انہیں سخت سزا بھی دی جائے گی ۔ اسی قوانین کے تحت سونیا گاندھی نے 2006 میں اپنا عہدہ کھو دیا تھا ۔ اس قانون کے تحت کرناٹک کے چیف منسٹر یدویورپا مہاراشٹرا کے چیف منسٹر اشوک چوہان اپنے عہدوں سے محروم ہوئے تھے ۔۔ 2