چیف منسٹر ریونت ریڈی کا سنٹرل الیکشن کمیشن کو مکتوب

   

SIR عمل کیلئے مہلت میں 4 ہفتوں کی توسیع اور اضافی عملہ کی تعیناتی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں جاری ووٹرلسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مہم کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹوں کو حذف کئے جانے کے خدشے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف منسٹر نے چیف سنٹرل الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کی خامیوں کی طرف نشاندہی کی اور عوام کے حق رائے دہی کے تحفظ کیلئے فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ (SIR) عمل کے نام پر 92.86 لاکھ ووٹرس پر ووٹ کٹنے یا نوٹس کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس کیلئے پورے طریقہ کار کا ازسرنو جامع جائزہ لیا جانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مقررہ وقت میں عوام کیلئے اپنے دعوے اور اعتراضات اور دستاویزات جمع کرانا انتہائی مشکل ہے۔ اس لئے الیکشن کمیشن اعتراضات قبول کرنے کی آخری تاریخ میں مزید چار ہفتے کی توسیع کریں۔ چیف منسٹر نے خاص طور پر منتقل مزدوروں، غریبوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کش طبقات کے حقوق کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کو اپنے ووٹوں کی غلطیوں کو درست کرانے اور اسناد جمع کرانے کیلئے اضافی وقت ملنا چاہئے۔ گریٹر حیدرآباد اور اس کے اطراف کے گنجان آبادی والے اضلاع میں ووٹرس کی کثیر تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی انتظامیہ کی بہتری پر زور دیا۔ چیف منسٹر نے سنٹرل الیکشن کمیشن کو اس جانب توجہ دلائی کہ اضلاع حیدرآباد، میڑچل، ملکاجگری اور رنگاریڈی میں ووٹرس کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس لئے ان تینوں اضلاع میں ایس آئی آر عمل کو وقت پر اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کیلئے اضافی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس (EROs) کو فوری طور پر تعینات کیا جائے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ SIR کے اس پورے عمل کو نچلی سطح تک مکمل کرنے میں شہریوں کو راحت مل سکے۔2