حیدرآباد ۔ 25 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : زیادہ تر حکمران سیاست دانوں کے لیے خواہ گھر پر ہوں یا کیمپ آفس پر اقتدار کا کروفر برتری کی علامت ہوتی ہے جو ان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے لیکن تلنگانہ میں اے ریونت ریڈی گھر پر چیف منسٹر کا تاج پہننا نہیں چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں روزانہ آفس سے ان کی گھر واپسی ایک حقیقی امر ہو ۔ وہ مبینہ طور پر گھر پر محسوس کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ سرکاری ملازمین ان کے گھر میں داخل ہوں ۔ وہ چاہتے ہیں اسٹاف کے لوگ فرنٹ آفس تک ہی رہیں ۔ حالانکہ پروٹوکول کے مطابق چیف منسٹر کو ان کے آفس اور قیام گاہ پر بھی کافی اسٹاف الاٹ کیا جاتا ہے لیکن ریونت ریڈی نے گھر پر متعین کئے جانے والے اسٹاف کو رکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ وہ سرکاری طور پر الاٹ کئے جانے والے کو کس یا دیگر ہاوز کیپنگ اسٹاف کو رکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔ وہ ان کی قیام گاہ پر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی کوئی خدمات نہیں چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان اشخاص سے خوش ہیں جنہیں انہوں نے گھریلو اور دیگر کام کے لیے رکھا تھا اور چاہتے ہیں کہ وہ ان کے کام جاری رکھیں ۔ ریونت ریڈی نے ان کے کیمپ آفس سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا شیف ان کے لیے پکوان کرنا جاری رکھے ۔ وہ ان کے قافلہ کے لیے گورنمنٹ ڈرائیور بھی نہیں چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا شخصی ڈرائیور گاڑی چلائے ، ظاہر ہے کہ ڈرائیور کا لباس سرکاری ضرورت کے مطابق ہوگا ۔ چیف منسٹر ان کی ذاتی SUV کا استعمال کررہے تھے ۔ دھمکیوں کی رپورٹس کے بعد انہوں نے ان کے قافلہ میں بعض تبدیلیاں کرنے سے اتفاق کیا ۔ سیکوریٹی عہدیداروں نے مبینہ طور پر مشورہ دیا کہ چیف منسٹر کو ان کے قافلہ کے لیے نئی گاڑیاں خریدنا چاہئے ۔ تقریبا نو نئی گاڑیوں کو مبینہ طور پر ان کے قافلہ میں شامل کیا گیا ۔ انہوں نے پہلے کی سفید گاڑیوں کو سیاہ ٹوئٹا فارچنر ایس یو ویز سے بدل دیا ۔ کے سی آر سفید کارس کو ترجیح دیا کرتے تھے جب کہ ریونت ریڈی سیاہ گاڑیوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ریونت ریڈی نے ان کے قافلہ میں کارس کی تعداد بھی کم کردی اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ان کے قافلہ کی روانگی کے لیے ٹریفک کو نہ روکا جائے ۔۔