چیف منسٹر پر تنقید سے قبل کویتا اپنے والد کے بیانات کا جائزہ لیں

   

تلنگانہ حکومت کا بجٹ حقائق پر مبنی، کانگریس ارکان کونسل عامر علی خاں اور بی وینکٹ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل بی وینکٹ اور عامر علی خاں نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے مؤثر عمل آوری کے لئے حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کریں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان قانون ساز کونسل عامر علی خاں اور بی وینکٹ نے بی آر ایس رکن کونسل کویتا پر سخت تنقید کی جنھوں نے تلنگانہ کے بجٹ کو محض اعداد و شمار کا کھیل قرار دیا ہے۔ ارکان کونسل نے کہاکہ ترقی اور فلاحی اقدامات میں رکاوٹ کی صورت میں بی آر ایس قائدین کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُنھوں نے بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت اور کانگریس کی 10 ماہ کی حکمرانی میں فلاحی اور ترقیاتی اقدامات پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا ہے۔ بی وینکٹ نے کہاکہ تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل کا بجٹ سیشن تاریخی ثابت ہوا ہے۔ بجٹ میں ریاست کی حقیقی صورتحال اور عوام کی ضرورت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کویتا کی تلنگانہ بجٹ پر تنقید غیر ضروری ہے اور وہ سابق میں پیش کردہ بجٹ کے اعداد و شمار کو بھول چکی ہیں۔ ارکان کونسل نے ریمارک کیاکہ لکر اسکام کے اعداد و شمار سے بجٹ کا تقابل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کویتا کی پنک بُک کا حوالہ دیتے ہوئے بی وینکٹ نے کہاکہ کویتا پنک بُک میں آخر کیا درج کررہی ہیں۔ اُنھوں نے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو تحریر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تفصیلات آخر کس کے لئے ہیں؟ کانگریس ارکان کونسل نے کہاکہ کویتا اقتدار سے محرومی کے باوجود بھی خود کو حکومت میں تصور کررہی ہیں۔ ارکان کونسل نے کہاکہ گزشتہ 11 برسوں میں بی آر ایس کی جانب سے جو بجٹ پیش کئے گئے وہ حقائق پر مبنی نہیں تھے۔ آمدنی اور خرچ میں کافی فرق پایا گیا۔ 2023 ء کے آخری بجٹ میں 66 ہزار کروڑ کا فرق دیکھا گیا۔ کانگریس نے حقائق پر مبنی بجٹ پیش کیا ہے اور ریاست کی معاشی صورتحال کے مطابق ترجیحات کا تعین کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس حکومت نے سابق حکومت کے قرض اور سود کی ادائیگی کے لئے جو قرض حاصل کیا اُس کی تفصیلات اسمبلی میں پیش کی جاچکی ہیں۔ کانگریس پارٹی عوام کو ہرگز دھوکہ نہیں دے گی جنھوں نے اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے اقتدار حوالہ کیا ہے۔ کانگریس ارکان کونسل نے چیف منسٹر پر کویتا کی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کے ریمارکس کے بارے میں اظہار خیال کرنے سے قبل کویتا کو اپنے والد کی تقاریر اور الفاظ کا جائزہ لینا چاہئے۔ کے سی آر کی طرز پر ہریش راؤ اور کے ٹی آر بھی قابل اعتراض بیانات جاری کررہے ہیں۔ ارکان کونسل نے کویتا اور دیگر بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت سے تعاون کریں۔1