چیف منسٹر چھتیس گڑھ کیخلاف تحریک مراعات شکنی

   

انکاؤنٹر تحقیقاتی رپورٹ کے افشاء کا بی جے پی کا الزام
رائے پور ۔ 2 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ اسمبلی میں اپوزیشن بی جے پی نے آج چیف منسٹر مکیش بھاگیل کے خلاف تحریک مراعات شکنی کی نوٹس دی۔ اپوزیشن کا الزام ہیکہ 2012ء میں ہوئے مبینہ انکاؤنٹر کی تحقیقات سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا افشاء ہوا ہے۔ جنوبی بستر علاقہ میں پیش آئے انکاؤنٹر میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ 28 اور 29 جون 2012ء کی درمیانی شب بیجاپور ضلع میں یہ انکاؤنٹر ہوا تھا۔ آج چیف منسٹر کی جانب سے اسمبلی میں جیسے ہی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ پیش کی گئی، بی جے پی کے سینئر رکن اور سابق چیف منسٹر رمن سنگھ نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا پہلے ہی میڈیا میں افشاء ہوچکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اہمیت کی حامل اس رپورٹ کا ایوان کے باہر اس طرح افشاء ہوسکتا ہے۔ پہلے رپورٹ سے متعلق ایوان کو واقف کروانا چاہئے بجائے اس کے ارکان کو باہر اخبارات سے اس کی اطلاع حاصل ہورہی ہے۔ رمن سنگھ اور بی جے پی کے دیگر ارکان نے دعویٰ کیاکہ یہ رپورٹ ریاستی حکومت پر ایک ماہ قبل ہی پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر ایوان کو نظرانداز کیا ہے۔ لہٰذا ان کے خلاف مراعات شکنی کی نوٹس دی گئی۔ بی جے پی کے لیڈر و چھتیس گڑھ اسمبلی اپوزیشن قائد مقننہ دھرم لال کوشک نے تحریک مراعات شکنی پر مباحث کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف ریاستی کانگریس کے صدر موہن مارکم نے رپورٹ کی تفصیلات پر مباحث مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہیکہ سیکوریٹی افواج نے دیہاتیوں پر یکطرفہ فائرنگ کی ہے۔ بی جے پی ارکان نے اس کی مخالفت کی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اسپیکر کی جانب سے یہ تیقن دینے کے باوجود کہ اس پر مباحث زیرغور ہیں ۔ اپوزیشن نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا جس پر اسپیکر نے کچھ دیر کیلئے ایوان کی کارروائی کو معطل کردیا۔