عوامی حکمرانی سے بی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار، گورنمنٹ وہپ بی ایلیا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) گورنمنٹ وہپ بی ایلیا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں عوامی حکمرانی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کے ٹی آر الزام تراشی پر اُتر آئے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو نشانہ بناتے ہوئے عوام میں اُلجھن پیدا کی جارہی ہے۔ سی ایل پی آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ چیف منسٹر کے دورہ دہلی کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ چیف منسٹر نے مرکزی حکومت کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں شرکت کیلئے یہ دورہ کیا۔ ریاست کے پراجکٹس کیلئے مرکزی وزراء سے نمائندگی کی گئی۔ گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ ریاست کے مسائل پر مرکز سے نمائندگی کیلئے دورہ کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ بائیں بازو انتہا پسندی پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 7 ریاستوں کے چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کیا تھا۔ حالیہ سیلاب اور بارش کے نقصانات پر مرکز سے امداد کی اپیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی کیلئے چیف منسٹر 23 مرتبہ نہیں 230 مرتبہ بھی دہلی جانے کیلئے تیار ہیں۔ بی ایلیا نے کہا کہ اپوزیشن قائدین فارم ہاوز میں بیٹھ کر حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ قائد اپوزیشن کے سی آر عوام کیلئے دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ چیف منسٹر کے دورہ دہلی پر انہیں اعتراض کیوں ہے۔ کے سی آر کے عوام میں دکھائی نہ دینے پر گجویل کے رائے دہندوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان کی بدعنوانیوں سے عوام اچھی طرح واقف ہیں اور کویتا سی بی آئی اور ای ڈی کے مقدمات کا سامنا کررہی ہیں۔ گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ آئندہ 25 برس تک تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت رہے گی اور 2029 میں راہول گاندھی کا وزیر اعظم بننا طئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں باغی امیدواروں کے سبب کانگریس کو نقصان ہوا ہے۔1