چار ٹی آر ایس ارکان راجیہ سبھا بی جے پی سے رابطہ میں۔ ریونت
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت ہے، دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ دور میں کانگریس شامل نہیں ہے اور ان دونوں کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔8 سالہ دور حکومت میں جہاں کے سی آر نے تلنگانہ کیلئے کچھ نہیں کیا وہیں نریندر مودی نے بھی ملک کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ٹی آر ایس اور بی جے پی حکومتوں سے بدظن ہوچکے ہیں اور یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے میں دشمنی ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لاکھوں کروڑہا روپئے کی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو معاشی دہشت گرد قراردیا اور مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ وہ کے سی آر کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کیوں نہیں کروارہی ہے۔ کے ٹی آر حالیہ دنوں میں بی جے پی کو مستحکم کرنے کے ریمارکس کررہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں کوئی اختلافات نہیں ہیں بلکہ کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے یہ دونوں جماعتیں سیاسی تماشہ کررہی ہیں۔ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس فلور کو بی جے پی میں ضم کرنے تیاریاں کی جارہی ہیں اور ٹی آر ایس کے 4 ارکان راجیہ سبھا بی جے پی سے رابطے میں ہیں مزید ایک رکن راجیہ سبھا کے شامل ہونے پر مکمل طور پر ٹی آر ایس فلور کو بی جے پی میں ضم کردیا جائے گا۔ پرگتی بھون میں رہتے ہوئے ترقی حاصل کرنے والے ایک رکن راجیہ سبھا کی قادت میں ٹی آر ایس فلور بی جے پی میں ضم ہونے کا دعویٰ کیا۔ ن